بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ قرض کی نیت سے دینا


سوال

ایک فقیر نے بطور قرض مجھ سے کچھ رقم مانگی میں نے اُسے زکوٰۃ کی مد میں سے رقم دے دی،مگر اُسے نہیں بتایا کہ یہ زکوٰۃ کی مد میں دے رہا ہوں بلکہ اُسے کہا کہ یہ قرض دے رہا ہوں ،پھر جب وہ قرض واپس کرنے آیا تو میں نے اُسے کہا کہ میں ابھی قرض نہیں لیتا بعد میں دے دینا اور چند دن بعد اُسے کہا کہ تم وہ قرض کی رقم مجھے مت دو،میں نے تمہیں معاف کیا تو کیا اس طرح میری زکوٰۃ ادا ہو گئی تھی؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم دیتے وقت دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت کرنا ضروری ہے،لیکن مستحق زکوٰۃ شخص کو دیتے وقت یہ کہنا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے ،بلکہ اس کو ہدیہ،صدقہ،قرض وغیرہ کہہ کر دینا بھی جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے مستحق زکوٰۃ کو قرض کہہ کر رقم دی،مگر رقم دیتے وقت دل میں نیت زکوٰۃ کی تھی،تو اس صورت میں سائل کی زکوٰۃ ادا چکی ہے۔

 

ومن ‌أعطى ‌مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية.(الفتاوی الھندیة،كتاب الزكاة،ج:1ص:171)

(قوله نية) أشار إلى أنه لا اعتبار للتسمية؛ ‌فلو ‌سماها ‌هبة أو قرضا تجزيه في الأصح.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکاة،ج:2ص:267)


فتویٰ نمبر : 10261/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں