بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مسجد کا کمرہ کرایہ پر دینا
سوال
ہمارے علاقے میں ایک مسجد ہے اس کے ساتھ دو کمرے ہیں ، امام صاحب اس کو از خود استعمال نہیں کرتے ، مسجد چونکہ امام صاحب کی زیرنگرانی ہے اس کے تعمیراتی کام امام صاحب نے کرائے ہیں ،اور اس کے اخراجات بھی امام صاحب برداشت کرتے ہیں ،ایسی صورت میں کیا اپنے کچھ رشتہ دار جو یہاں کاروبار کرتے ہیں اور رات یہاں مسجد میں ٹھہرتے ہیں ، ان سے کرایہ لے اور اس رقم کو مسجد کے بجلی بل ، وغیرہ میں استعمال کرے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے مسجد کے لیے وقف جگہ صرف مسجد اور اس کے مصالح کے لیے ہی استعمال کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے وقف جگہ کو استعمال کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسجد کے کمرے امام صاحب خود استعمال نہیں کرتے تو ان کمروں کو اپنے رشتہ داروں کو مناسب کرایہ پر دینا اور وہ کرایہ مسجد کے مفاد اور مصالح میں خرچ کرناجائز ہے،البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان کمروں کو کرایہ پر دینے سے مسجد کی کوئی بے حرمتی نہ ہو اور اس سے نمازیوں کے عبادات میں حرج نہ آئے۔
واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجرة المثل أو أكثر فلو أجر الناظر بدون أجرة المثل لا تصح الإجارة ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.(البحرالرائق،کتاب الإجارة،ج:7ص:299)
إذا أجر بأقل من أجرة المثل فإن كان بنقصان يتغابن الناس فيه فهي صحيحة وليس للمتولي فسخها وإن كان بنقصان لا يتغابن الناس فيه فهي فاسدة وله أن يؤاجرها إجارة صحيحة إما من الأول أو من غيره بأجر المثل وبالزيادة على قدر ما يرضى به المستأجر فإن سكن المستأجر الأول وجب أجر المثل بالغا ما بلغ وعليه الفتوى وإن كانت الإجارة الأولى بأجرة المثل ثم ازداد أجر مثله كان للمتولي أن يفسخ الإجارة وما لم يفسخ كان على المستأجر الأجر المسمى۔(البحرالرائق،کتاب الوقف،ج:5ص:256)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں