بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں نفع متعین کرنا


سوال

ایک شخص کی امارات میں موبائل کی دکان ہے، میں نے اُسے  چھ ہزار درہم دیئے تاکہ اس رقم کو وہ اپنے کاروبار میں ڈالے اور نفع میں  مجھے بھی شریک کرے،تو اس نے کہا کہ  میں آپ کو   اس کاروبار میں شریک تو نہیں کر سکتا ،مگر ان چھ ہزار درہم کو کاروبار میں ڈال کر ہر ماہ آپ کو ایک سو پچاس درہم دیا کروں گا،تو کیا اس طرح کاروبار سے نفع لینا میرے لیے جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کے سرمایہ جبکہ دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار مضاربت کہلاتا ہے،اور عقد  مضاربت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے  کہ  رب المال اور مضارب  کے مابین نفع کا فیصدکے اعتبار سے تقسیم ہو، کسی ایک کے لیے  متعین مقدار میں نفع مقرر کرنے سے مضاربت فاسد ہو جاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا کاروبار کے لیے چھ ہزار  درہم دےکر ہر ماہ ایک سو پچاس درہم متعین منافع لینا جائز نہیں ۔اس لیے اس معاملہ سے احتراز کریں۔

 

ومن شرطها ‌أن ‌يكون ‌الربح ‌بينهما ‌مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح ۔۔۔لفساده ‌فلعله ‌لا ‌يربح إلا هذا القدر۔(الهداية،كتاب المضاربة،ج:3،ص:263)

ويشترط  أيضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد۔( فتح القدير، كتاب المضاربة، ج:7، ص:321)


فتویٰ نمبر : 3671/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں