بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دكان دار كا گاہک کو قیمت خرید بتاتے وقت غلط بیانی کرنا


سوال

عموماً بازاروں میں  دکان دار کوئی سامان بیچتے وقت کہتے ہیں کہ میں نے اتنے  میں خریدا ہے اور اتنے میں آپ پر بیچتا ہوں حالانکہ اس نے اتنے میں نہیں خریدا  ہوتا بلکہ وہ  گاہک کو دھوکہ دے کر سامان مہنگا بیچتے ہیں، گاہک کو سامان خریدنے کے بعد اگر پتہ چلےکہ دکان دار نے مجھے دھوکہ دیا ہے ،  تو کیا اس کو  سامان واپس کرنے کا اختیار ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقد مرابحہ میں اگر بائع مشتری کو دھوکہ دے کر اصل قیمت بتانے میں غلط بیانی کرکے زیادہ قیمت میں بیچ دے، بعد میں مشتری کو اس کے دھوکے کا پتہ چلے تو مشتری  کو اختیار  ہوگا کہ چاہے تو اس بیع کو ختم کرکے مبیع بائع کو واپس لوٹا دے اور  بائع سے پوری قیمت وصول کرے یا جتنی قیمت  کے بدلے خریدی ہے اس کو اپنی حالت پر چھوڑ دے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی دکا ن دار اپنا سامان بیچتے وقت گاہک کو کہے کہ میں نے یہ سامان اتنے میں خریدا ہے اور اتنے میں بیچتا ہوں حالانکہ وہ اتنے میں نہ خریدا ہو بلکہ اس سے کم قیمت میں خریدا ہو تو یہ دھوکہ دہی ہے اس لیے جائز نہیں۔ خریدار کو اگر خریدنے کے بعد پتہ چلے کہ دکان دار نے مجھے دھوکہ دیا ہے تو اس نے جو قیمت ادا کی ہو یا تو اتنے میں ہی  لے لے یا اس بیع کو ختم کر کے مبیع بائع کو لوٹا کر اپنے پیسے واپس لے لے۔ بیع کو برقرار رکھتے ہوئے دکان دار سے زائد رقم واپس کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

 

‌فإن ‌ظهر ‌خيانته ‌في ‌مرابحة بإقراره أو برهان) على ذلك (أو بنكوله) عن اليمين (أخذه) المشتري (بكل ثمنه أو رده) لفوات الرضا.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5، ص:137)


فتویٰ نمبر : 3667/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں