بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بینک کے لیے جگہ کرایہ پر دینا


سوال

کسی اسلامی یا کمرشل بینک کے لیے جگہ کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟خاص کر وہ بینک جو ہے کمرشل لیکن نام کے ساتھ اسلامک لگایا ہوتا ہے۔

جواب

شريعت نے مالک کو اپنی مملوکہ چیز اجارے پر دینے کا حق دیاہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے شرعی حدود پامال نہ ہوں، البتہ معاہدہ طے کرتے وقت کرایہ کی مقدار اورمدت کی تعیین ضروری ہے۔

صورت مسؤلہ میں جوسودی بینک ہیں ان کودکان یاجگہ کرایہ پردیناجائزنہیں۔اس لیے کہ یہ گناہ کے کام میں تعاون کےزمرےمیں آتا ہے،چنانچہ اس سےاحترازلازم ہے،البتہ وہ غیرسودی بینک جوشرعاًناجائزمعاملات میں ملوث نہیں ہوتےاورمستندعلمائےکرام کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ان کےساتھ کرایہ داری کامعاملہ کرنےمیں کوئی حرج نہیں۔

                 

"قال الله تعالى:وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ."(سورةالمائدة،الآية:2)

"وقوله تعالى: ‌وتعاونوا ‌على ‌البر ‌والتقوى ‌ولا ‌تعاونوا ‌على ‌الإثم ‌والعدوان ‌يأمر ‌تعالى ‌عباده ‌المؤمنين ‌بالمعاونة ‌على ‌فعل ‌الخيرات ‌وهو ‌البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم،".(تفسیر ابن کثیر،سورةالمائدة،الآية:2،ج:3،ص:10)

" قال - ‌رحمه ‌الله: (‌وإجارة ‌بيت ‌ليتخذه ‌بيت ‌نار ‌أو ‌بيعة ‌أو ‌كنيسة ‌أو ‌يباع ‌فيه ‌خمر ‌بالسواد) ‌أي ‌جاز ‌إجارة ‌البيت ‌ليتخذه ‌معبدا ‌للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله -، وقالا لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، …".(تبیین الحقائق،کتاب الکراهيه،فصل فى البيع،ج:6،ص:29)

"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.(الدرالمختار على صدرالمحتار،كتاب الإجارة،باب شروط الإجارة،ج:6،ص:5)


فتویٰ نمبر : 3669/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں