بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

تین معلق طلاقوں سے بچنے کا حیلہ


سوال

زید نے اپنے چھوٹےبھائی عمر کو بعض وجوہات کی بناءپرکہا کہ خالد کے ساتھ تعلقات اور روزگارختم کردو توعمر نے ختم نہ کیا اور بھائی کے کہنے کے باوجود بھی خالد کے ساتھ تعلقات اور روزگار قائم رکھا تو زید نے عمر کو کہا: ''کہ تا د خالد سرہ تعلقات ختم نہ کڑل نو کہ تہ مونگ کرہ مور لہ راغلےیا مرگ نہ پس دی ھم رانہ مور وکتلہ نو پہ ما بہ خزا پہ دریو کانڑو طلاقہ وی''(اگرتم خالد کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کرتےتو تم اگر ہمارے گھر ماں کی ملاقات کے لیےآئے یا وفات کے بعدمجھ سے ماں کو دیکھ پاسکے تو تین پتھروں کے ساتھ میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگی )اب پوچھنا یہ ہے کہ طلاق بائن والے حیلہ کے علاوہ اگر طلاق سے بچنے کیلئے یہ حیلہ اختیار کیا جائےکہ عمر ایک دفعہ خالد کے ساتھ تعلقات اور روزگار ختم کرےاور پھر زید کو راضی کرکے زید کے گھر جا کرماں سے ملے اور پھر دوبارہ خالد کے ساتھ تعلقات اور روزگار بحال کرےاور پھر ماں سے ملنے بھائی کے گھر جاتا رہےتو کیا زید پر بیوی طلاق ہو گی یا نہیں؟ کیا یہ حیلہ تعلیقِ طلاق کو ختم کرنے کیلئے درست ہے یا نہیں ؟

جواب

جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جائےتو اس کو طلاق معلق کہتے ہیں،طلاق معلق میں جب تک شرط نہ پائی جائے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوتی لیکن جوں ہی شرط وجود میں آئے تو فورا طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ اگر کوئی تین طلاق کسی شرط کےساتھ معلق کرے تو فقہا نے اس سے بچنے کے لیے یہ حیلہ بیان کیا ہے کہ ایک طلاق  تنجیزی (جو کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو )دی جائے پھر اس کے بعد جب عدت پوری ہوجائے تو اس سے عورت بائن ہوجائے گی پھر شرط کو بجا لایا جائے تو اس وقت شرط پوری ہوجائے گی لیکن طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس طلاق کا محل باقی نہیں رہا ۔اور جب شرط ایک مرتبہ وجود میں آجائے،تو دوبارہ اگر وہی شرط پائی جائے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق سوال میں مذکورہ حیلہ درست نہیں ہے کیونکہ شرط یہ ہے کہ ''تعلقات کے ہوتے ہوئے وہ گھر آجائےاور ماں کے ساتھ ملاقات کرے ''،اور جب تعلقات ختم کرنے کے بعد آجائے تو اس صورت میں شرط نہیں پائی جائے گی اس لیے شرط ختم نہ ہوگی بلکہ برقرار رہے گی۔ لہٰذا زید اگر تین طلاق سے بچنا چاہتا ہےتوطلاق  بائن والے حیلہ پر عمل کرے۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط إتفاقا مثل أن يقول لإمرأته:إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتای الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط و نحوہ،الفصل الثالث،ج:1،ص:488)

(ففي جميعها) أي جميع الألفاظ(إذا وجد الشرط انتهت اليمين)؛لأنهاغيرمقتضية للعموم والتكرارلغة فبوجود الفعل مرة يتم الشرط وإذا تم وقع الحنث فلايتصورالحنث مرة أخرى إلا بيمين أخرى أوبعموم تلك اليمين وليس فليس.(مجمع الأنھرشرح ملتقی الأبحر،کتاب الطلاق،باب التعلیق،ج:1،ص:418)

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدارأن يطلقهاواحدة ثم بعدالعدة تدخلهافتنحل اليمين فينكحها.(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الطلاق،باب التعلیق،ج:3،ص:355)


فتویٰ نمبر : 7075/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں