بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عاریت پر لی ہوئی چیز کو ہلاک کرنا


سوال

ایک شخص نے کسی کو  ایک استعمال شدہ گھڑی عاریت پردی تھی اس نےتعدی کرکے ہلاک کیا۔اب اس شخص پرضمان ہے یا نہیں؟اور ضمان کونسے دن کاہوناچایئےعاریت پر دینے کےدن،ہلاک کرنے کے دن کا یا فیصلے کے دن کا؟

جواب

واضح رہے کہ عاریت پردی ہوئی چیز امانت کے حکم میں ہوتی ہے،اگر وہ ہلاک ہو جائے تو اگر ہلاک ہونے میں عاریت پر لینے والے کا کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی بھی نہ کی ہو تو اس پر ضمان نہیں آئے گا ، لیکن اگر وہ اس کی غفلت و کوتاہی یا تعدی کی وجہ سےہلاک ہوجائے تو اس  پر ضمان لازم ہوگا،چنانچہ اگر وہ چیز مثلی ہو( یعنی : اس جیسی چیز بازار میں ملتی ہو)تو اس کا مثل لازم آئیگا،اوراگرقیمی ہو(جس کا مثل بازار میں میسر نہ ہو)  تواس کی قیمت لازم آئیگی۔

 صورت مسئولہ میں چونکہ مستعمل گھڑی ذوات القیم (جس کا مثل بازارمیں میسرنہ ہو)میں سے ہے،لہذا اگر ہلاک کرنے والےنے تعدی کرکے ہلاک کی ہو،تو اس پرہلاک کرنے کے دن کا ضمان لازم آئے گا یعنی اس دن مارکیٹ میں اس چیز کی جو قیمت ہو وہی اس کے ذمہ دینا لازم ہو گا۔

 

فلو حصل من المستعير تعد أو تقصير بحق العارية ثم هلكت أو نقصت قيمتها فبأي سبب كان الهلاك أو النقص أي سواء كان بتعد وتقصير أم بسبب آخر أم ماتت الدابة حتف أنفها يلزم المستعير الضمان؛ لأن المستعير لما أصبح في حكم الغاصب فقد تحولت يد أمانته إلى يد ضمان. أي أنه يلزم ضمان مثل العارية إذا كانت من المثليات وقيمتها تامة إذا كانت من القيميات وقيمة النقصان فقط في حال النقصان (.دررالحكام، الباب الثالث فی العارية،ج: 1،ص :350)

الوديعة إذا لزم ضمانها ،فإن كانت من المثليات تضمن بمثلها،وإن كانت من القيميات تضمن بقيمتهايوم لزوم الضمان ...يعني يوم وقع تعدي المودع على الوديعة؛لأنه بذالك صار غاصبا،ففي المنح وغيره: المودع بالتعدي على الوديعة غاصب۔(شرح المجلة لخالد الأتاسي،ج:2،ص:296)

(وتجب القيمة في القيمي يوم غصبه) إجماعا.(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الغصب،مطلب فيما لو هدم حائط،ج:6،ص:181)


فتویٰ نمبر : 3690/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں