بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے سےسفید بالوں کو کالا رنگ دینے كا مطالبہ كرنا


سوال

ایک شخص کی داڑھی میں کچھ بال سفید ہوئے، جو بیوی کے لیے باعث نفرت بن رہے ہیں،بیوی چاہتی ہے کہ آپ اسے کالا رنگ دیں،کیا ایسا شخص داڑھی کو کالا رنگ دے سکتا ہے یا نہیں؟نیز اگر بیوی کے سر کے بال سفید ہوئے ہوں، اور شوہر اسے کالا رنگ دینے کا  مطالبہ کرے، تو کیا شوہر کی خوشنودی کی خاطر بیوی اپنے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ دے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کو اپنے جسم میں ایسے تصرفات کا حق حاصل نہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالی کی خلقت میں تغیر اور دھوکہ دہی کا ارتکاب لازم آتا ہو یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے سیاہ خضاب لگانے سے احادیث مبارکہ میں ممانعت آئی ہے، تاہم اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو مثلاً بوقت جہاد دشمنوں پررعب ڈالنے  کے لئے استعمال کرے تو شرعا  جائز ہے، اسی طرح امام ابو یوسفؒ کے نزدیک بیوی کی دلجوئی کی خاطر بطور زینت بھی سیاہ خضاب لگانا جائز ہےليكن اكثر فقہائے کرام سے کراہت کا قول منقول ہے، اس لیے خالص سیاہ رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ مثلا سیاہی مائل، سرخ یابھورارنگ وغیرہ استعمال کرنا چاہیے۔

 

عن جابر بن عبد الله قال:‌أتي ‌بأبي ‌قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد". (صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب استحباب خضاب الشيب  الخ، رقم الحديث :2102، ج:3، ص:1663)

‌وأما ‌الخضاب ‌بالسواد ‌فمن ‌فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة وروي عن أبي يوسف رحمه الله تعالى  أنه قال كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها كذا في الذخيرة.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب العشرون في الزينة، ج:5، ص:259)


فتویٰ نمبر : 6055/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں