بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

تکبیر تحریمہ کے بعد قیام کیے بغیر رکوع کرنا


سوال

ایک شخص رکوع میں امام کے ساتھ اس طرح شامل ہوگیا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد سیدھا رکوع میں چلا گیا یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد قیام بالکل نہیں کیا۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسا شخص رکعت پانے والا شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص  ایسے وقت میں جماعت میں حاضر ہوجائے جس وقت امام رکوع میں ہو ،تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھے، پھر دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔ لیکن اگر تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھے بغیر رکوع میں چلا جائے اور تکبیر تحریمہ کہتے وقت قیام کی حالت کے قریب ہو توقیام ادا ہوجائے گا، کیونکہ قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ  کہہ کر رکوع تک پہنچنے میں جتنا قیام ہوگا اس سے قیام کی فرضیت ادا ہوجائے گی ،لیکن اگر تکبیر تحریمہ کہتے وقت رکوع کی حالت کے قریب ہو تو اس کا قیام صحیح  نہیں ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص نماز میں امام کے ساتھ اس طرح شامل ہوجائے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد سیدھا  رکوع میں چلا جائے اور قیام بالکل نہ کرے تو ایسا شخص رکعت پانے والا شمار ہوگا۔

 

فلو ‌كبر ‌قائما فركع ولم يقف صح، لان ما أتى به من القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:2، ص:131)

لو أدرك ‌الإمام ‌راكعا ‌فحنى ظهره ثم كبر أن كان إلى القيام أقرب صح الشروع ولو أراد به تكبير الركوع وتلغو نيته لأن مدرك الإمام في الركوع لا يحتاج إلى تكبير مرتين خلافا لبعضهم وإن كان إلى الركوع أقرب لا يصح الشروع.(حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح،كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة وأركانها، ص:218


فتویٰ نمبر : 10255/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں