بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بہنوں کی نسبی بہن سے نکاح


سوال

انور کی بہن شادی شدہ ہے، جس کی تین بیٹیاں ہیں، انور کی بیوی نے ان میں دو بیٹیوں کو دودھ پلایا ہے، جب کہ ایک کو دودھ نہیں پلایا، اب انور اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بہن کی اس بیٹی سے کرانا چاہتا ہے، جس کو اس کی بیوی نے دودھ نہیں دیا،کیا یہ نکاح جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جب کوئی عورت کسی اجنبی لڑکی کو مدت رضاعت میں دودھ پلائے، تو اس عورت کی سب اولاد اس لڑکی کےر ضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں، لیکن یہ حرمت صرف دودھ پینے والی کے ساتھ خاص رہتی ہے، اس  کے دیگر نسبی بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی۔

صورتِ مسئولہ میں جس لڑکی نے انور کی بیوی کا دودھ نہیں پیا، انور کی اولاد کے لیے اس سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

ولو أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها، وإذا كان يجوز للرجل أن يتزوج أخت أخيه من النسب فكذلك أخت أخته من الرضاع.(المبسوط للسرخسي، باب تفسر لبن الفحل،ج:30،ص:338)


فتویٰ نمبر : 7091/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں