بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کا حکم


سوال

 ایک شخص دوسری شادی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ لڑکی رشتے میں اس کی موجودہ  بیوی کی بھانجی لگتی ہے، تو کیا اس شخص کا اس سے شادی کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

شرعی لحاظ سے جس طرح کوئی شخص دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع نہیں کرسکتا ، اسی طرح دو ایسی رشتہ دارعورتوں کو بھی بیک وقت نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا جن میں سے اگر ایک کو مرد فرض کرلیاجائےتو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہو اور اگر دوسری کو مرد فرض کر لیا جائےتو پہلی کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہو ۔

صورت مسئولہ کے مطابق بھانجی کو خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا؛اس لیے جب تک بیوی نکاح میں ہو اس کی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

 

ولا يجمع بين المرأة وعمتها،أو خالتها ... ولايجمع بين امرأتين لوكانت إحداهمارجلالم يجز له أن يتزوج بالأخرى۔(الهدايه،كتاب النكاح،فصل في بيان المحرمات،ج:3،ص:12،11)


فتویٰ نمبر : 7096/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں