بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

چالیس دن کا حمل ساقط ہونے کے بعد خون آنا


سوال

میری بیوی تقریباً چالیس دن سے حاملہ تھی ، اس کا حمل ضائع ہوا اور اس کو تقریباً پندرہ دن خون آیا تھا تو کیا یہ خون نفاس کا  تھا  یا نہیں؟ نیز ان دنوں میں فوت ہونے والی نمازوں کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حمل خود بخود ساقط ہو جائے یا اسے ساقط کر دیا جائے ،اگر  اس کے اعضا ہا تھ ، پاؤں  وغیرہ ظاہر ہو چکے ہوں تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہو گا ، لیکن اگر اعضا کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو اس حمل کے ضائع ہونے کے بعد نظر آنے والا خون نفاس نہیں کہلائے گا ۔

صورت مسئولہ میں  کے مطابق سائل کی بیوی کا  جو حمل ضائع ہو ا  تھا اگر اس کے اعضا ظاہر ہو چکے   تھے  تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس کا   شمار ہو گا  اور اگر اعضا ظاہر نہیں ہوئے تھے تو  ان میں  عادت کے بقدر  دن حیض  کے شمار ہو ں  گے  ، باقی دن  استحاضہ کے شمار ہوں گے  ۔اور استحاضہ کے دنوں  میں  قضا   ہو نے والی نمازوں کی قضا لازم ہو گی ۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة.( الدر المختار شرح تنوير الابصار وجامع البحار، كتاب الطهارة، باب الحيض،ص:٤٥)


فتویٰ نمبر : 10260/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں