بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

گانے بجانے والے ولیمہ میں شرکت


سوال

اگر کوئی شخص شادی کے موقع پر ہجڑے لائے یا ڈانس وغیرہ  کرائے ، تو کیا ولیمہ میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کی دعوت قبول کرنی چاہیےلیکن اس شرط پر کہ وہ دعوت غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو تقریبات ناچ ،گانے اور میوزک جیسی خرافات پر مشتمل ہو اور پہلے سے یقینی طور پر اس بات کا علم ہو کہ وہاں گانے ، میوزک وغیرہ خرافات کا ارتکاب کیا جارہاہےتو ایسی دعوت میں شرکت جائز نہیں  تاہم اگر پہلے سے علم نہ ہواور وہاں پر جانے کے بعد معلوم ہو جائے کہ یہ دعوت اور ولیمہ موسیقی جیسے حرام امور پر مشتمل ہے تو عوام کے لیے کھانے کی گنجائش ہے جب کہ علما اور پیشوا لوگوں کے لیے ایسی صورت میں دعوت ولیمہ کی مجلس کو چھوڑ کر  وہاں سےجانا چاہیےتاکہ لوگ اس کی ناراضگی سے عبرت حاصل کریں اور اہل دین کی بدنامی بھی نہ ہو ۔تاہم اگر یہ میوزک وغیرہ کھانا کھانے کی جگہ میں نہ  ہو، یا ولیمہ سے پہلے   اس کا ارتکاب ہوا  ہو، اور اب  ولیمہ  کے موقع  پر نہ ہو، تو ایسی صورت میں  دعوت میں شرکت کی جا سکتی ہے،البتہ  مقتدیٰ اور اہل  علم کے لیے  بہتر یہ ہے کہ   حکمت اور مصلحت سے  ان کو  معصیت ترک کرنے پر آمادہ کریں۔

 

واعلم بأن هذه المسألة على وجهين:الأول: أن يكون اللعب والغناء على المائدة، وفي هذا الوجه لا ينبغي له أن يقعد لقوله تعالى: ﴿ فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين﴾۔ (الأنعام: 68) ، وكذلك إذا كان على المائدة قوم يشربون الخمر، فلا ينبغي له أن يقعد، فقد صح أن رسول الله عليه السلام نهى أن يتناول الطعام في مجلس يشرب فيه الشراب، وكذلك إذا كان على المائدة قوم يغتابون لا يقعد، والغيبة أشد من اللهو واللعب؛ لأنها أشد من الزنا؛ قال عليه السلام: «الغيبة شر من الزنا» .والوجه الثاني: أن يكون اللعب والغناء في المنزل، وفي هذا الوجه لا بأس بأن يقعد على المائدة ويأكل، وهو المراد من المذكور في «الكتاب» ، قيل: هذا إذا كان الرجل ذا حشمة يتركون ما هم عليه بحشمته، فأما إذا لم يكن بهذه الصفة لا ينبغي أن يقعد ويأكل بل يعرض عنهم، وقول أبي حنيفة رضي الله عنه: ابتليت بهذا مرة يحمل أنه كان بعدما صار ذا حشمة، وعلى قياس هذا القول ينبغي أن يقال في الوجه الأول: إذا كان الرجل ذا حشمة يتركون ما هم عليه لحشمته لا بأس بأن يقعد ويأكل؛ بل القعود أولى ليصير ذلك سبباً لامتناعهم عن المعصية، وقيل أيضاً: ما ذكر في الوجه الثاني أن يقعد محمول على ما إذا كان الرجل خامل الذكر، ولا يقتدى به؛ أما إذا كان عالماً ويقتدى به لا يقعد ولا يأكل حتى لا يصير قدوة للشر ( المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الثامن عشر في الغناء، واللهو، وسائر المعاصي، والأمر بالمعروف، ج:6، ص:113)


فتویٰ نمبر : 6059/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں