بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کاجہری نماز میں "صراط الذین" تک سراً قراءت کرنا


سوال

ایک امام نے غلطی سے جہری نماز میں "صراط الذین"تک سراً قراءت کی، پھر اسے یاد آیا تو سورت فاتحہ کو شروع سے جہراً پڑھا، اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جہری نماز میں تین آیات کی مقدارسورہ فاتحہ  سہواً سراً پڑھنے سے سجدۂ سہولازم ہوجاتا ہے، اسی طرح  سری نماز میں جہراً پڑھنے کاحکم ہے۔ نیز نماز میں جس طرح واجب چھوڑنے اور واجب کی تاخیر سے سجدہ سہولازم ہو جاتا ہے، اسی طرح واجب کےتکرار سے بھی سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے، چنانچہ فرائض کی پہلی دو رکعات اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے، اگر ان رکعتوں میں کوئی سہوا ًسورہ فاتحہ ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھ لےیا سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ دوبارہ پڑھ لے،تو اس تکرار کی وجہ سے  سجدہ سہو واجب ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب امام جہری نماز میں غلطی سے"صراط الذین"تک سراً پڑھ لے اور پھر یاد آنے پر سورہ فاتحہ کو شروع سے جہراً پڑھا، تو اس صورت میں چونکہ جہری نماز میں تین آیات سے زیادہ سراً پڑھا گیا ہے، اسی طرح سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ دوبارہ پڑھ لیا گیا ہے، اس لیے سجدہ سہو لازم ہے۔

 

 (‌قوله ‌وكذا ‌ترك ‌تكريرها إلخ) فلو قرأها في ركعة من الأوليين مرتين وجب سجود السهو لتأخير الواجب وهو السورة كما في الذخيرة وغيرها، وكذا لو قرأ أكثرها ثم أعادها كما في الظهيرية۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، واجبات الصلاة، ج:1، ص:460)

‌ولو ‌كررها ‌في ‌الأوليين ‌يجب ‌عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين. ولو قرأ الفاتحة إلا حرفا أو قرأ أكثرها ثم أعادها ساهيا فهو بمنزلة ما لو قرأها مرتين، كذا في الظهيرية۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:126)

(‌والجهر ‌فيما ‌يخافت ‌فيه) ‌للإمام (وعكسه) لكل مصل في الأصح والأصح تقديره (بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين. وقيل) قائله قاضي خان يجب السهو (بهما) أي بالجهر والمخافتة (مطلقا) أي قل أو كثر (وهو ظاهر الرواية)۔۔۔۔ (قوله والأصح إلخ) وصححه في الهداية والفتح والتبيين والمنية لأن اليسير من الجهر والإخفاء لا يمكن الاحتراز عنه، وعن الكثير يمكن، وما تصح به الصلاة كثير، غير أن ذلك عنده آية واحدة، وعندهما ثلاث آيات هداية۔۔۔۔ (قوله وهو ظاهر الرواية) وقال في شرح المنية: والصحيح ظاهر الرواية، وهو التقدير بما تجوز به الصلاة من غير تفرقة لأن القليل من الجهر في موضع المخافتة عفو أيضا۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب سجودالسهو، ج:2، ص:82)


فتویٰ نمبر : 10258/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں