بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
ہسپتال یا باہر کسی ملک میں مرجانے کی وجہ سے میت کو اپنے علاقے منتقل کرنا
سوال
ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ احناف کے نزدیک میت جہاں فوت ہو اسی علاقے میں دفن کی جائے گی لیکن پشاور کے ہسپتالوں میں بہت لوگ مرتے ہیں ان کو وہاں دفن نہیں کیا جاتا بلکہ دیر سوات اور دیگر قبائلی علاقوں میں لےجاتے ہیں اسی طرح سعودی میں مرنے والوں کو پاکستان لایا جاتا ہے اسکا کیا حکم ہے؟
جواب
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق بہتر یہ ہے کہ آدمی کا انتقال جس جگہ پر ہو جائےاسی جگہ قریب قبرستان میں اس کو دفن کیا جائے البتہ امام محمدؒنےایک میل یا دومیل کی مسافت پر منتقل کرنے کو جائز کہا ہے ۔ ابن عابدین ؒنے اس قول کی توجیہ یہ کی ہےکہ "قبرستان عمومااتنے فاصلے پر ہوتاہے ۔"اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی جگہ قبرستان اس سے زیادہ مسافت پر ہو یا اس شہر /بستی میں کوئی وقف قبرستان نہ ہو تو دوسری جگہ وقف قبرستان تک میت کو لے جانا جائز ہےچاہے وہ دو میل سے زائد فاصلے پر بھی ہو۔تا ہم اگر کوئی عذر نہ ہو تو پھر فقہائے کرام نے زیادہ مسافت پر میت کو منتقل کرنے کو مکروہ تحریمی کہا ہے۔کیونکہ اس سے تدفین میں تاخیر ہوتی ہے ۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ فقہاء نے چار اغراض کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ میت منتقل کرنے کوجائز لکھا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
(1)حرمین شریفین میں سے کسی ایک کی طرف منتقل کرنا۔
(2)انبیاءعلیھم الصلاۃوالسلام میں سے کسی ایک کی قبر کے قریب منتقل کرنا ۔
(3)اولیاءاللہ میں سے کسی کی قبر کے قریب منتقل کرنا۔
(4)اس لئے منتقل كرناکہ وہاں زیادہ لوگ قبر کی زیارت کر سکیں گے اور ایصال ثواب کر سکیں گے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی ہسپتال میں یا باہر کسی ملک میں فوت ہوجائے،اور وہاں اس کے قریبی عزیز و اقارب نہ ہو ں تو اس کو اپنےعلاقے میں منتقل کرنے کی گنجائش ہے،تا کہ زیادہ لوگ اس کی قبر کی زیات کر سکیں،اور ایصال ثواب کرسکیں۔
فإذا كان يترتب عليه فائدة من نقله إلى أحد الحرمين أو إلى قرب قبر أحد من الأنبياء، أو الأولياء، أو ليزوره أقاربه من ذلك البلد، وغير ذلك، فلا كراهة(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علي بن سلطان محمد،كتاب الجنائز،باب دفن الميت، الفصل الثاني، ج:4، ص:184)
(قوله ولا بأس بنقله قبل دفنه) قيل مطلقا، وقيل إلى ما دون مدة السفر، وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد.(ردالمحتار على الدرالمختار ،كتاب الصلاة،باب صلاةالجنازة،ج:2،ص:146)
أما إذا أرادوا نقله قبل الدفن أو تسوية اللبن فلا بأس بنقله نحو ميل أو ميلين.قال المصنف في التجنيس: لأن المسافة إلى المقابر قد تبلغ هذا المقدار. وقال السرخسي: قول محمد بن سلمة ذلك دليل على أن نقله من بلد إلى بلد مكروه، والمستحب أن يدفن كل في مقبرة البلدة التي مات بها۔(فتح القدير،فصل في الدفن،ج:2،ص:141)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں