بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ملازمت میں چھٹی کرنےکا حکم


سوال

ایک مدرس اگر تدریس کے ساتھ ساتھ چھٹی کےاوقات(ظہرسےعشا تک،سہ ماہی،ششماہی اورسالانہ چھٹیاں)میں مدرسےکےلئےچندہ کرنےپرمامورہو،جس کی وجہ سےاضافی تنخوابھی لیتاہو۔توکیایہ مدرس چندہ کےکام سےکسی ضروری وجہ مثلاًوالدین اور بچوں وغیرہ کوڈاکٹرلےجانے،یاقریبی رشتہ داروں کی شادی بیاہ وغیرہ میں حاضری کی بناپربغیراجازت کےچھٹی کرسکتاہے،جبکہ یہ چھٹی مہتمم صاحب کی ناراضگی کا سبب بھی ہو؟نیزشرعاماہانہ یا سالانہ طورپرچھٹی کی کوئی حد متعین ہےیا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

ملازمین کوملنےوالی چھٹیاں اوردیگرمراعات کاانحصارملازم اورمالک کےدرمیان طےشدہ معاہدے پرہوتاہے۔شریعت میں چھٹیوں کےلیےکوئی مخصوص مقدارمقررنہیں کی گئی ہے،اس لیےمعاہدے کےتحت مقررہ چھٹیوں کی اجازت ہوگی،اوراس سےزیادہ چھٹیاں کرناجائزنہیں ہوگا،جب تک مالک یاادارے سےبقاعدہ چھٹی نہ لی ہو۔

صورتِ مسؤلہ میں،مدرس کوچندہ کےکام سےمتعلق معاہدے میں طےشدہ مقدرسےزیادہ چھٹی کرنےکی اجازت نہیں ہوگی،جب تک ادارےسےباقاعدہ اجازت نہ لی جائے۔اضافی چھٹیوں کامعاوضہ تنخواہ سےوضع کیا جاسکتاہے۔جہاں تک ماہانہ اورسالانہ چھٹیوں کی حد کا تعلق ہے،توشریعت میں اس کی کوئی مقررہ حدنہیں ہے۔یہ حدمعاہدے میں طے کی جاسکتی ہے،یاپھرجومقدارعرف وعادت میں مروج ہو،وہی معتبرہوگی۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"‌المسلمون ‌عند ‌شروطهم فيما وافق الحق "

(السنن الكبرى،كتاب الصداق،باب الشروط في النكاح،ج:7،ص:406،رقم الحديث:14434)

ورده البيري بمافي القنية إن كان الواقف قدرللدرس لكل يوم مبلغافلم يدرس يوم الجمعة أوالثلاثاءلايحل له أن يأخذويصرف أجر هذين اليومين إلى مصارف المدرسة من المرمة وغيرهابخلاف ما إذا لم يقدرلكل يوم مبلغا،فإنه يحل له الأخذوإن لم يدرس فيهما للعرف،بخلاف غيرهمامن أيام الأسبوع حيث لايحل له أخذ الأجرعن يوم لم يدرس فيه مطلقاسواءقدرله أجركل يوم أولا،قلت:هذا ظاهرفيماإذا قدرلكل يوم درس فيه مبلغاأمالوقال يعطى المدرس كل يوم كذافينبغي أن يعطى ليوم البطالةالمتعارفة بقرينةماذكره في مقابله من البناءعلى العرف،فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاءوالجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ،وكذالوبطل في يوم غيرمعتادلتحريردرس إلاإذانص الواقف على تقييدالدفع باليوم الذي يدرس فيه.

(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الوقف،مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظيفةفي يوم البطالة،ج:6،ص:568)

(الأجيرالخاص يستحق الأجرة إذاكان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولايشرط عمله بالفعل)غيرأنه يشترط أن يتمكن من العمل فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذركالمطروالمرض فلاأجرله(ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذاامتنع لايستحق الأجرة.)(شرح المجله لسليم رستم،ج:1،ص:239،رقم المادة:425)


فتویٰ نمبر : 3679/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں