بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

امتحان پاس کرنےکے لیے پیسے دینا


سوال

ایک شخص جو کہ قابل اور باصلاحیت ہے، میڈیکل کے لیے پرائیوٹ یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتا ہے جس کے لیے ایک امتحان پاس کرنا ہوتا ہے ،لیکن عموما لوگ پیسہ دے کر یہ امتحان پاس کرتے ہیں۔ تو کیا یہ شخص پیسے دے کر امتحان پاس کرواسکتا ہے،اسے یہ شک بھی ہے کہ اگر پیسے نہ دیے تو دوسرے لوگ پیسے دے کر امتحان پاس کروا لیں گے اور اس کوداخلہ نہ مل سکے گا،کیا شرعا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ پیسےدےکرناجائزاور غلط طریقےسےاپنےمقصد کو حاصل کرنا،یاکسی صاحب حق کاحق چھینناایک عظیم جرم اورسخت گناہ ہے،اس لیےہرمسلمان کورشوت دینےاورلینےسےاپنےآپ کوبچاناانتہائی ضروری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےرشوت دینے،اوررشوت لینےوالے دونوں پرلعنت کی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں کسی شخص کو رشوت دے کرامتحان میں اپنےآپ کوپاس کرواناجائزنہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿ إِنَّ اللّٰهَ يأمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلٰى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَينَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يعِظُكُمْ بِه إِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ (سورة النساء:58)

عن عبدِ الله بن عمرو رضي الله عنه، قال: لَعَنَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم الراشِيَ والمُرْتَشِيَ.(سنن أبي داو‏د‏‏،كتاب الأقضية،باب في كراهية الرشوة،ج:2،ص:148،حديث نمبر:3580 )


فتویٰ نمبر : 6085/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں