بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

فلا ئٹ جانے کےخوف سے حایضہ عورت کا بغیر طواف زیارت کےوطن لو ٹنے پر حج کاحکم


سوال

 اگر حج کے موقع پرکسی خاتون کو حیض آنے  کی وجہ سے طواف زیارت فلائٹ کے مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنا مشکل ہو تو بغیر طواف زیارت کے خاتون کے وطن  لوٹنے پر کیا احکا مات مرتب ہو تے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ طواف زیا رت حج کا رکن اعظم ہے اس کے بغیر   حج  مکمل نہیں ہو سکتا، اس لیے اگر کسی عورت کو طواف زیا رت سے پہلے حیض آجائےتو اسے چا ہیے  کہ وہ کوئی  ایسی تدابیر اختیار کرےجس سے وہ پاک ہونے کے بعدطواف زیارت  کرکے  مکہ مکرمہ سے واپس ہو سکے جیسے ویزہ اور ٹکٹ کی تا ریخ بڑھائے،اوراگر فلائٹ کو مؤخر کرنا ممکن نہ ہوا ،تو پھر حالت حیض میں طواف زیارت ادا کرلے   تا ہم طواف زیارت کو حالت حیض میں ادا کرنے کی وجہ سے بدنہ واجب ہو گا جوکہ حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے ۔

  صورت مسؤلہ کے مطا بق اگر کوئی عورت  حیض کی وجہ سےطواف زیارت کے بغیر واپس وطن آگئی تو اس  کا حج  مکمل نہ ہوگا؛کیونکہ طواف زیارت اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا ،لہذا واپس مکہ مکرمہ جا کر طواف زیا رت کرےگی اور جب تک طواف زیارت ادا نہ کیا ہو تو شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق اس کے لئےحرام  ہوگا، تا ہم احرام کی  دیگر پابندیاں (خوشبو لگانا ،نا خن کاٹنا وغیرہ) قربانی اور قصر کرنےسےختم ہو جاتی ہیں۔

 

 ‌وإن ‌ترك ‌كلا ‌الطوافين فهوحرام على النساء أبدا وعليه أن يرجع ويطوف طواف الزيارة.(الفتاوی الهندية،کتاب الحج،الفصل الخامس في الطواف والسعي،ج:1،ص:242)

‌وإن ‌رجع ‌إلى ‌أهله فهو محرم على النساء أبدا وعليه أن يعود إلى مكة بذلك الإحرام ولا يحتاج إلى احرام جديد فيطوف للزيارة۔(الفتاوی التاتارخانية،کتاب الحج،الفصل السابع في الطواف والسعي، ج:3 ص : 607)

‌ثم ‌إن ‌كان ‌بمكة ‌يأتي به بإحرامه الأول؛ لأنه قائم؛ إذ التحلل بالطواف، ولم يوجد، وعليه لتأخيره عن أيام النحر دم عند أبي حنيفة، وإن كان رجع إلى أهله فعليه أن يرجع إلى مكة بإحرامه الأول، ولا يحتاج إلى إحرام جديد، وهو محرم عن النساء إلى أن يعود فيطوف.(بدائع الصنائع ،کتاب الحج،فصل في الطواف والسعي إذا فات،ج:3،ص:80)


فتویٰ نمبر : 10253/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں