بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسقاط حمل(ABORTION) کا عدت پراثر


سوال

اگرکسی عورت کا شوہروفات پا چکا ہواوروہ عورت حاملہ ہو لیکن وہ وضع حمل سے پہلے پہلے اسقاط حمل کرلےاورپھرنکاح بھی کرلے،تو دریافت طلب امریہ ہےکہ کیاعورت کی عدت اسقاط حمل سےختم ہوجاتی ہےیا نہیں،نیزاس کایہ دوسرانکاح ازروئےشریعت درست ہے یا نہیں؟

جواب

عدت گزارنےمیں بنیادی طورپراس بات کا لحاظ رکھا گیا ہےکہ رحم کا نطفہ سے پاک ہونا یقینی ہوجائےتا کہ نسب کا تحفظ ہواور ایک شخص کا نطفہ دوسرےکےنطفہ سےخلط ملط نہ ہوجائے،اس وجہ سے حاملہ کےلیے وضع حمل کوعدت کی انتہاقراردیا گیا ہے۔نیزکسی معقول شرعی عذرکی موجودگی میں چارماہ سےپہلےپہلےفقہانےاسقاط حمل کی گنجائش دی ہے،تاہم حمل ساقط ہونےیا ساقط کرنےکی صورت میں عدت ونفاس وغیرہ احکام اس وقت متوجہ ہوتے ہیں جب حمل کا کوئی  عضو بن چکا ہو،اگرساقط ہونے والےیا ساقط کیےگئےحمل کاکوئی عضوبن گیاتھاتوعدت ختم ہوجاتی ہےاورآنےوالاخون نفاس کاہوگا، اورنفاس کی حالت میں نکاح کرنا ازروئےشریعت درست ہے،تاہم اس حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔ اوراگرکوئی عضونہیں بناتھا،توآنے والاخون نفاس نہیں ہوگااورعدت بھی ختم نہیں ہوگی،بلکہ چارماہ،دس دن گزارنےسےعدت ختم ہوگی اورعدت وفات میں کیا گیا نکاح بھی ازروئےشریعت جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرساقط شدہ حمل پراتناوقت گزراتھاکہ جس میں حمل کا کوئی عضوظاہرہوچکاتھا،اوراس کےبعداسقاط حمل کرلیا گیا ہوتواس صورت میں عورت کی عدت ختم ہوچکی ہےاوراس کا کیا گیا نکاح بھی ازروئےشریعت درست ہے،البتہ حالت نفاس میں جماع سےگریز کیا جائےگا۔اور اگربچےکاعضوظاہرنہیں ہواتھااوراسقاط حمل کرلیا گیا،تو اس صورت میں عدت ختم نہیں ہوئی، بلکہ چارماہ، دس دن عدت گزارنی ہوگی۔اور اس دوران کیا گیا نکاح عدت کےاندرشمارہونےکی وجہ سےازروئےشریعت جائز نہیں ۔

 

 قال الله تعالی:﴿ولا تعزمواعقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله﴾(سورۃ البقرۃ:235)

 وقال:﴿وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن﴾(سورۃ الطلاق:5)

عن عبدالله بن مسعود يقول:الشقي من شقي في بطن أمه،والسعيدمن وعظ بغيره،فأتى رجلامن أصحاب رسول الله ﷺ يقال له حذيفة بن أسيد الغفاري،فحدثه بذلك من قول ابن مسعودفقال وكيف يشقى رجل بغيرعمل؟فقال له الرجل:أتعجب من ذلك؟فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:إذا مربالنطفة ثنتان وأربعون ليلة بعث الله إليها ملكا،فصورها،وخلق سمعهاوبصرهاوجلدهاولحمهاوعظامها،(الصحیح لمسلم،کتاب القدر،باب کیفیة الخلق الآدمی في بطن أمه،حدیث رقم:2645)

 وإذاأسقطت المرأةالمطلقةأوالمتوفى عنهازوجهاسقطاقداستبان خلقه أوبعض خلقه فقدانقضت العد(الأصل للامام محمدبن الحسن الشیبانی،کتاب الطلاق،باب العدۃوخروج المرأة من بیتها،ج:4،ص:415)

قال ابن عابدین:وأمانحوالحيض والنفاس والإحرام والظهارقبل التكفيرفهومانع من حل الوطءلامن محليةالعقدفافهم۔(رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب النکاح،ج:4،ص:60)

(والسقط)مثلثةاسم للولدالساقط قبل تمامه(إن ظهربعض خلقه)كشعروأنف ويدورجل(فهوولدتصيربه أمه نفساء والأمةأم ولد)إن ادعاه السيد.(ويقع)به (الطلاق المعلق بالولادة)بأن قال:إن ولدت فأنت طالق.(وتنقضي به العدة)؛لأنه ولدلكنه ناقص الخلقة،ونقصان الخلقةلايمنع أحكام الولادة،وفي قول صاحب التبيين ولايستبين خلقه إلى مائة وعشرين يوما نظرفليتأمل (مجمع الأنھر،کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ج:1،ص:56)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں