بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تمام گاؤں والوں کا ایک ہی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں کافی  عرصہ سے  جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے ۔ابتداء میں  نماز جمعہ  صرف گاؤں   کی ایک ہی    بڑی مسجد   میں ادا ہوتی تھی  لیکن کچھ عرصہ قبل گاؤں  کی  دیگر   مساجد میں بھی شروع ہوئی ۔اب سوال یہ ہے  کہ  اگر  سارے گاؤں والے  دوبارہ ایک ہی مسجد  میں نماز پڑھنے پر متفق ہو  جائیں تو کیا  یہ جائز ہے کہ جن  چھوٹے مساجد   میں جمعہ شروع کیا ہے  ان میں ترک کیا جائے  تاکہ  سارے گاؤں والے  ایک ہی جگہ نماز ادا کر یں  اور جماعت بڑی ہو جائے ۔

جواب

جب کسی شہر یا گاؤں میں نماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں تو اس شہر یا گاؤں کی ہر مسجد میں  نماز جمعہ پڑھنا درست ہے  تاہم اگر ایک جامع مسجد میں بڑی جماعت کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا ممکن ہو تو زیادہ افضل  ومستحسن ہے ۔نیز جامع مسجد میں نماز  ادا کرنے مسلمانوں کی شان وشوکت کا اظہار ہوتا ہے،  اور سب مسلمان باہم ملتے ہیں،  تو اتفاق و اتحاد  کا ماحول پیدا ہوتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقعی   سارے گاؤ ں    والے  ایک ہی مسجد   میں نماز   جمعہ پڑھنے پر باہم  اتحاد واتفاق  کا اظہار کر لیں تو زیادہ  مناسب اور  بہتر عمل ہے ، جن مساجد میں نماز جمعہ شروع  ہوئی تھی  ان میں ترک کرنا اور ایک ہی  جامع مسجد میں  ادا کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔

 

وأفاد أن المساجد ‌تغلق ‌يوم ‌الجمعة إلا الجامع  (قوله تغلق) لئلا تجتمع فيها جماعة بحر عن السراج (قوله إلا الجامع) أي الذي تقام فيه الجمعة فإن فتحه في وقت الظهر ضروري والظاهر أنه يغلق أيضا بعد إقامة الجمعة لئلا يجتمع فيه أحد بعدها، إلا أن يقال إن العادة الجارية هي اجتماع الناس في أول الوقت فيغلق ما سواه مما لا تقام فيه الجمعة ليضطروا إلى المجيء إليه وعلى هذا فيغلق غيره إلى الفراغ منها لكن لا داعي إلى فتحه بعدها فيبقى مغلوقا إلى وقت العصر ثم كل هذا مبالغة في المنع عن صلاة غير الجمعة وإظهارا لتأكدها۔(رد المحتار على الدر الختار،‌‌باب الجمعة،ج:2،ص:157)

وتؤدى ‌الجمعة ‌في ‌مصر ‌واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب السادس عشر في الصلوة الجمعة،ج:1،ص:147)


فتویٰ نمبر : 10252/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں