بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
سمت قبلہ کی تعیین
سوال
گاؤں میں لوگ ایک مسجد بنا رہے ہیں ،اس میں قبلے کا تھوڑا سا مسئلہ یہ ہےکہ اگر اس کو بالکل عین قبلے کی طرف بنائیں،تو پھر صفیں کچھ چھوٹی کچھ بڑی ہوں گی اور اگر جگہ کے حساب سے سیدھی مسجد بنائی جائے ،تو پھر تقریباً 20 یا 25 ڈگری قبلے سے منحرف ہوگی ،تو کیا اس صورت میں گنجائش ہے کہ 20 یا 25 ڈگری قبلے سے منحرف بنائی جائے؟
جواب
واضح رہےکہ جوشخص بیت اللہ شریف کے سامنےنماز پڑھ رہا ہو، اس کے لیے عین کعبہ کی طرف رخ کرنافرض ہے،اور اگر بیت اللہ شریف کے سامنے نہ ہو تو جہت کعبہ کا استقبال ضروری(فرض) ہے۔البتہ ،جن مساجد میں پہلےصفیں بنی ہوں لیکن عین کعبہ کے رخ پرنہ ہوں، توجہت کعبہ سے انحراف قلیل تک گنجائش ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے چہرے کا کوئی حصہ ،خواہ وسطِ(درمیان) چہرہ کا ہو یا دائیں، بائیں جانب کا ہو ،بیت اللہ شریف کے کسی حصے کے سامنےہو جائے، فقہاے کرام نےاس انحراف قلیل کا اندازہ پینتالیس(45) ڈگری (درجہ) تک لگایا ہے ،کہ اگر اس درجہ تک انحراف ہو تو قلیل ورنہ کثیر ہے۔
صورت مسئولہ میں مسجد کی تعمیرنو میں حتی الوسع جدید آلات سے مدد لے کر عین کعبہ کی طرف صفوں کا رخ کیا جائے،اور بغیر مجبوری کے جان بوجھ کر عین قبلہ سے انحراف نہ کیا جائے،لیکن اگر تعمیراتی ضرورت(صفوں کا عدم تناسب وغیرہ )کے پیش نظر20 یا 25 درجے تک انحراف کیا جائےتو اس کی گنجائش ہے،بشرطیکہ کسی فتنہ وفساد یا انتشار کا باعث نہ بنے۔
قال: " ويستقبل القبلة " لقوله تعالى: ﴿فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾[البقرة: 144] ثم من كان بمكة ففرضه إصابة عينها ومن كان غائبا ففرضه إصابة جهتها هو الصحيح لأن التكليف بحسب الوسع۔
( الھدایۃ،کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ التی تتقدمھا،ج:1،ص:47 ،الناشر:دار احیاء التراث العربی بیروت)
ومن القواعدالفلکیۃ إذاکان الانحراف عن مقتضی الأدلۃأکثرمن خمس وأربعین درجۃیمنۃ أو یسرۃیکون ذلک الانحراف خارجاعن جھۃ الربع الذی فیہ مکۃ المشرفۃ من غیر إشکال۔(الفتاوی الخیریة،کتاب الصلاۃ،ص:109،ج:1)
(قوله إصابة جهتها) في الدراية عن شيخه ما حاصله أن استقبال الجهة أن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها لأن المقابلة إذا وقعت في مسافة بعيدة لا تزول بما يزول به من الانحراف لو كانت في مسافة قريبة، ويتفاوت ذلك بحسب تفاوت البعد وتبقى المسامتة مع انتقال مناسب لذلك البعد، فلو فرض خط من تلقاء وجه المستقبل للكعبة على التحقيق في بعض البلاد وخط آخر يقطعه على زاويتين قائمتين من جانب يمين المستقبل أو شماله لا تزول تلك المقابلة والتوجه بالانتقال إلى اليمين والشمال على ذلك الخط بفراسخ كثيرة، ولذا وضع العلماء قبلة بلد وبلدين وثلاث على سمت واحد۔
(فتح القدیر،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ التی تتقدمھا،ج:1،ص:270 )
(وَلِغَيْرِهِ إصَابَةُ جِهَتِهَا) أَيْ لِغَيْرِ الْمَكِّيِّ فَرْضُهُ إصَابَةُ جِهَةِ الْكَعْبَةِ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ وَهُوَ الصَّحِيحُ؛ لِأَنَّ التَّكْلِيفَ بِحَسَبِ الْوُسْعِ وَقَالَ الْجُرْجَانِيُّ الْفَرْضُ إصَابَةُ عَيْنِهَا فِي حَقِّ الْغَائِبِ أَيْضًا؛ لِأَنَّهُ لَا فَصْلَ فِي النَّصِّ بَيْنَ الْحَاضِرِ وَالْغَائِبِ؛ وَلِأَنَّ اسْتِقْبَالَ الْبَيْتِ لِحُرْمَةِ الْبُقْعَةِ وَذَلِكَ فِي الْعَيْنِ دُونَ الْجِهَةِ۔( تبیین الحقائق،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ،ج:ا،ص: 100)
وجهتها:أن يصل الخط الخارج من جبين المصلي إلى الخط المار بالكعبة على استقامة بحيث يحصل قائمتان.أونقول:هو أن تقع الكعبة فيما بين خطين يلتقيان في الدماغ فيخرجان إلى العينين كساقي مثلث، كذا قال النحرير التفتازاني في شرح الكشاف، فيعلم منه أنه لو انحرف عن العين انحرافا لا تزول منه المقابلة بالكلية جاز، ويؤيده ما قال في الظهيرية: إذا تيامن أوتياسر تجوز لأن وجه الإنسان مقوس لأن عند التيامن أو التياسر يكون أحد جوانبه إلى القبلة.
(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،ج:2،ص:109)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں