بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

پرندے یا جانور لڑوا کر پیسے حاصل کرنا


سوال

اگر کوئی شخص لڑوانے کے  لیے   پرندے یا جانور پالتا ہے اور ان کو لڑا تاہے اور کبھی  پیسوں کی شرط لگا کر لڑاتا ہے    کیا اس سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے مرغ ،  بٹیر ،کتے یا دیگر جانوروں  کو آپس میں لڑوانا جائز نہیں ، کیونکہ اس  میں خواہ مخواہ پرندوں  یا جانوروں کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے سے منع فرمایا ہے ۔اس لیے جانوروں یا پرندوں کو لڑانا  بہر حال ناجائز ہے اور اگر اس میں شرط لگائی جائےتو اس   میں جوا بھی آجائے گا اس لیے اس کی  حرمت مزید مؤکد ہو جائے گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  پرندوں یا جانوروں کو پیسوں کی شرط لگا کر لڑواتا ہے تو اس کے لیے اس سے حاصل ہونے والے پیسے جوا ہونے  کی وجہ سے حلال  نہیں ۔ اگر  اس کا مالک معلوم ہو تو اس کو واپس   کر دے ااور اگر مالک معلوم نہ  ہو تو بلا نیت ثواب  صدقہ  کر دے ۔

 

عن ابن عباس قال: نهى رسول الله  صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم.( سنن أبي داؤد، كتاب الجهاد، باب في التحريش بين البهائم ،رقم الحديث:٢٥٦٢)

والحاصل  أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم،وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له،ويتصدق به بنية صاحبه.( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع ،باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:٧،ص:٣٠١)

(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار ‌من ‌القمر ‌الذي ‌يزداد ‌تارة ‌وينقص ‌أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع،ج:٢،ص:٤٠٣)


فتویٰ نمبر : 6095/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں