بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باغ فروخت کرنے میں عُشر کا حکم


سوال

گنے کی فصل پکنے سے پہلے خریدنے سے عُشر بائع پر ہے یا مشتری پر؟اکثر کتابوں میں یہ صراحتاً لکھا ہوا ہے کہ اگر سیب کے باغ کو پکنے سے پہلے خریدے تو عُشر مشتری پر ہے،اگر پکنے کے بعد خریدے تو عُشرپر ہے،لیکن لوگوں کی تعامل اس پر ہے کہ عُشر دینا ہر صورت میں زمیندار پر واجب ہے، امام ابویوسفؒ کا ایک قول کتابوں میں اسی طرح جو تعامل الناس کے لیے کافی ہے،برائے کرم رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ فصل یا پھل کے عُشر اور نصفِ عُشر کا بائع یا مشتری میں سے کسی  ایک پر واجب ہونے میں اصل اعتبار ادراک یعنی "پختگی"کا ہے،کہ جس کے قبضہ  میں فصل پک جائے یا پھل پختہ ہو جائے اس پر عُشر یا نصفِ عُشر لازم ہوگا، لہذا اگر فصل اور پھل کو پکنے اور پختہ ہونے کے بعد فروخت کیا گیا تو عُشر یا نصفِ عُشر بائع پر واجب ہوگا اور اگر پکنے اور پختہ ہونے سے پہلے فروخت کیاگیا  تو اس کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہےکہ مشتری اسی حالت میں اس کو کاٹ دے تو عُشر یا نصفِ عُشر بائع پر واجب ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے مشتری اس کو ادراک(پختہ ہونے) تک درختوں پر چھوڑدے تو اس صورت میں طرفین کے نزدیک عُشر مشتری پر واجب ہوگا، جب کہ امام ابویوسفؒ کے نزدیک جس وقت فصل یا پھل فروخت کیا گیا تھا اس وقت کی قیمت کا عُشر بائع پرہوگا ، جب کہ اس کے بعد ہونے والی زیادتی کی قیمت کا عُشر مشتری پر واجب ہوگا،البتہ راجح قول اس صورت میں یہ ہے کہ پورا عُشر  مشتری پر واجب ہے۔ 

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر گنے کی فصل کو  پکنے سے پہلے فروخت کر کے مشتری  کے قبضے میں  دے دیا  تو مشتری کی ملکیت میں  ہونے  کی وجہ سے  عشر  کی ادائیگی مشتری کے ذمہ واجب ہو گی ۔ اور اگرفصل پکنے  کے بعد فروخت کردیا ہو تو اس کا عُشر بائع کے ذ مے واجب ہو گی۔

 

ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع.(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:276)

ولو باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري؛ لأنه باعه بعد وجوب العشر وتقرره بالإدراك ولو باعها والزرع بقل فإن قصله المشتري للحال فعشره على البائع أيضا لتقرر الوجوب في البقل بالقصل وإن تركه حتى أدرك فعشره على المشتري في قول أبي حنيفة ومحمد لتحول الوجوب من الساق إلى الحب وروي عن أبي يوسف أنه قال: عشر قدر البقل على البائع وعشر الزيادة على المشتري وكذلك حكم الثمار على هذا التفصيل.(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في شرائط الفرضية،ج:2 ،ص:500 ،501)                                                          

وإذا باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري ولو باعها والزرع بقل إن قصله المشتري في الحال يجب على البائع ولو تركه حتى أدرك فعشره على المشتري.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السادس في زكوة الزروع والثمار ، ج:1، ص:249)  


فتویٰ نمبر : 10402/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں