بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعدواجب مقدار میں قراءت نہ پڑھنے سے نماز کا حکم


سوال

ایک شخص نے ساری عمر صبح کی فرض نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ  نہیں پڑھی ہے،تو کیا یہ ساری نمازوں کا اعادہ کرےگا؟

جواب

واضح رہے کہ فرائض کی پہلی  دو رکعتوں اور سنن ،وتر اور نوافل کی تمام رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کم از کم ایک بڑی آیت   ،یا تین چھوٹی آیات  ملانا واجب ہے  اس لیے اگر ان  میں سے کسی رکعت میں سورۃ  فاتحہ کے بعد کم از کم ایک بڑی آیت   ،یا تین چھوٹی آیات   ملانا بھول جائے   تو  سجدہ سہو واجب ہوگا ۔اور اگر سجدہ سہو ادا نہیں کیا تو جب تک  نماز کا وقت نہ نکل جائے دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا ،،لیکن اگر  نماز کا وقت  نکل گیا تو  پھر اعادہ نہیں،البتہ گنہگار ضرور ہوگا،کیونکہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص نے ساری عمر صبح کی فرض نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ  نہیں پڑھی اور سجدہ سہوبھی نہیں کیاتو وقت کے اندر اس پر اعادہ واجب تھا ،لیکن  چونکہ ان نمازوں کا وقت گزرگیا   ہے اس لئے اب  اعادہ لازم نہیں،البتہ گنہگار ہےاس لئے توبہ کرے اور آئندہ اس سے اجتناب کرے۔

 

‌يجب ‌تعيين الأوليين من الثلاثية والرباعية المكتوبتين للقراءة المفروضة حتى لو قرأ في الأخريين من الرباعية دون الأوليين أو في إحدى الأوليين وإحدى الأخريين ساهيا وجب عليه سجود السهو كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:128)

وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق.( الفتاوى الهندية،ج:1،ص:128)

"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها حتى  خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم، ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر، كما في الدر وغيره. ويندب إعادتها لترك السنة". (حاشية الطحاوي على مراقي الفلاح ص: 247)

كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب ". (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،ص: 440)


فتویٰ نمبر : 10250/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں