بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

روزوں کی نذرمان کر روزہ رکھنے سے عاجز ہونا


سوال

ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کا بیٹا تندرست ہو جائے تو وہ ہر سال 12 روزے رکھے گی، یعنی ہر مہینے کا ایک روزہ۔ بیٹے کی صحت یابی کے بعداس عورت نے چار سال تک روزے  بھی رکھےہیں، لیکن اب وہ جسمانی طور پر کمزور ہو گئی ہے اور فرض روزے بھی بمشکل رکھ پاتی ہے۔ تو کیا اس صورت میں وہ ان روزوں کے بدلے فدیہ دے کر اپنی نذر پوری کر سکتی ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص روزے رکھنے کی نذر مانےتو اس پر روزے رکھنا لازم ہوگا۔ البتہ اگراس کے لیے کسی بیماری کی وجہ سے روزے رکھنا مشکل ہو، تو صحت بحال ہو نے کے بعد  روزے رکھنا ضروری ہوگا، تاہم اگر اس کی بیماری دائمی ہواور صحت یابی کی امید نہ ہو، تو پھران روزوں کے بدلےفدیہ دے گا، اور اگر فدیہ دینے کی بھی استطاعت نہ ہو، تو  اللہ سے معافی طلب کرے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت نے یہ نذر مانی تھی کہ "اگر میرا بیٹا تندرست ہو گیا تو میں ہر سال بارہ (12) روزے رکھوں گی، یعنی ہر مہینے کا ایک روزہ" تو بیٹے کی صحت یابی کی صورت میں اس عورت پر نذر پورا کرنا واجب ہے،اور جب تک روزے رکھنے کی طاقت ہو، تب تک روزہ رکھنا ہی واجب ہے، فدیہ دینا جائز نہیں۔ لیکن اگر واقعی عورت جسمانی طور پر کمزور ہو گئی ہو اور فرض روزے بھی بمشکل رکھتی ہو، تو اس صورت میں وہ ہر روزے کے بدلے ایک روزے  کا فدیہ ادا کر کےنذر پوری کر سکتی ہے۔

 

إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم،الباب السادس في النذر،ج:1،ص:272)

ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب وهو عبادة مقصودة ووجد الشرط لزم الناذر(الدرالمختار علی الصدر ردالمحتار،کتاب الایمان،ج:5،ص:515)


فتویٰ نمبر : 10074/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں