بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مطلقہ کا دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد دورانِ حمل دودھ پلانے کی صورت میں حرمت رضاعت


سوال

ایک عورت کا نکاح ایک آدمی سے ہوا تھا اس سےبچےبھی تھے بعد میں شوہر نے اس کو طلاق دی تو عدت گزرنے کے بعد اس عورت نے دوسرے آدمی کے ساتھ نکاح کیا اور اس دوسرے شوہر سے حمل بھی ٹھہر ا، پھر دوران حمل اس عورت نے کسی اجنبی بچی کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی کی جو رضاعت ثابت ہوتی ہے وہ اس عورت کے پہلے شوہر سے ہوگی یا دوسرے شوہر سے؟

جواب

اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دے اور اس عورت کے اس شوہر سے اولاد بھی ہو پھر وہ عورت دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کرے اور اس سے حمل بھی ٹھہرے، لیکن وضع حمل سے پہلے کسی اجنبی بچے کو دودھ پلائےتو اس بچے کی رضاعت اس عورت کے  پہلےشوہر سے ثابت ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مرضعہ کی پہلے شوہر سے اولاد ہو اور اس نے طلاق دی ہواور پھر عدت گزرنے کے بعد اس نے دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کیا ہو جس سے حمل بھی ٹھہرا ہو، لیکن وضع حمل سے پہلے کسی اجنبی  بچے کو دودھ پلایا ہو تو اس صورت میں اس بچے کی حرمت رضاعت پہلے شوہر سے ثابت ہوگی، چناچہ اس پہلے شوہر کی جتنی اولاد ہوخواہ اس سابقہ بیوی سے ہو یا دوسری بیوی سے،  سب اس بچے کے رضاعی بھائی بہن شمار ہوں گے، اسی طرح مرضعہ کی جتنے بھی اولاد ہے خواہ پہلے شوہر سے ہو یا دوسرے شوہر سے ہو وہ سب اس کے رضاعی بھائی ،بہن شمار ہوں گے، جب کہ دوسرے شوہر کی اگر دوسری بیوی سے اولاد ہوتو  ان کا اس بچے سے رضاعت کا کوئی رشتہ  نہ ہوگا۔

 

(طلق ذات لبن فاعتدت وتزوجت) بآخر (فحبلت وأرضعت) (فحكمه من الأول) لأنه منه بيقين فلا يزول بالشك ويكون ربيبا للثاني (حتى تلد) فيكون اللبن من الثاني . (قوله ويكون ربيبا للثاني) فيحل له التزوج ببنات الثاني من غير المرضعة بحر. (الدر المختار، باب الرضاع، ج: 3، ص: 221)


فتویٰ نمبر : 7059/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں