بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

چچا کا اپنی جائیداد بعض بھتیجوں کو ہبہ کرنا


سوال

میرے چچا کی صرف  ایک بیوی ہے  اور ہم تین بھتیجے اور ایک  بھتیجی ہے اب میرا چچا بیمار ہے ان میاں بیوی کی خواہش ہے کہ ہم اپنی جائیداد وغیرہ آپ دو(2) بھائیوں کے نام کرتے ہیں، چونکہ ایک بھائی ان کی خدمت وغیرہ نہیں کرتا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اگر اپنی جائیداد ہمارے نام کریں تو اس سے گناہگار تو نہیں ہوں گے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ہر شخص کو اپنی  مملوکہ جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کرنے کا حق حاصل ہے اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی جائیداد کسی کو ہبہ کرکے اس کے قبضہ میں دے تو  یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا اور اس  کے مرنے کے بعد اس  میں میراث کے احکام جاری نہ ہوں گے، ا لبتہ قبضہ دئے بغیر صرف کسی کے نام کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا، بلکہ  وفات  کے بعد اس کو شرعی طریقے سے تقسیم کیا جائے گا، نیز اگرکوئی شخص بعض ورثاکو  میراث سے بالکلیہ محروم کرنے کی غرض سے دوسرے بعض ورثا کو پوری جائیداد ہبہ کرے تواس پر گناہ ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا چچا اگر اپنی جائیداد دو بھتیجوں  کے نام کرے اور ان کو قبضہ بھی دے تو اس کی طرف سے یہ ہبہ شمار ہوگا، البتہ اگر وہ  اپنی جائیداد  قبضہ دیے بغیر صرف ان دو (2)  بھتیجوں کے نام کرے تو اس صورت میں ہبہ تام نہ ہوگا، چناچہ اس کی وفات  کے بعد اس کا ترکہ شرعی طریقے سے تقسیم کیا جائے گا، نیز اگر کسی وارث کو میراث سے محروم کرے گا تو اس کی وجہ سے گناہگار  ہوگا۔

 

 وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث ‌وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه.قال الطيبي رحمه الله: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها.( مرقاةالمفاتيح، باب الوصايا، رقم الحديث: 3078،ج: 5، ص: 2040)

وأما شرائطها....ومنها: أن يكون الموهوب مقبوضا، حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض، وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة، وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولايكون متصلا ولا مشغولا بغيرالموهوب....ومنها: أن يكون مملوكا للواهب،  فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك للواهب. ( الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الأول: في تفسير الهبة وركنها وشرائطها، ج:4، ص:395)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوّى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى.(الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس: في الهبة للصغير،ج:4، ص:416)


فتویٰ نمبر : 6071/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں