بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں رکھی ہوئی پلاسٹک کی ٹوپیوں میں نماز پڑھنا


سوال

ہماری مسجد میں پلاسٹک کی ٹوپیاں رکھی ہوئی ہیں، جو لوگ ننگے سر مسجد آتے ہیں  وہ ان ٹوپیوں کو پہن کر نماز پڑھتے ہیں  اور نماز کے بعد ان کو ان کی جگہ پر رکھ کر اور بعض پھینک کر چلے جاتے ہیں، تو کیا ایسی ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نماز ایسی عبادت ہے جس میں بندہ اللہ تعالی کے حضور حاضر ہوتا ہے، اس لیے نماز میں اس طرح لباس پہننا مناسب نہیں کہ جس کو پہن کر آدمی  معزز لوگوں كی محفل و مجلس میں شرکت کرنے سے عار محسوس کرتا ہو ۔ مساجد میں پلاسٹک وغیرہ کی جو  ٹوپیاں ہوتی ہیں چونکہ  ان کو پہن کر بندہ کسی معزز لوگوں کی  مجلس میں شرکت کرنے سے عار محسوس کرتا ہے اس لیے ایسی ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾(سورة الاعراف:31) 

(قوله وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:640)

وكذلك يكره الصلوة في ثياب البذلة.(الفتاوى التاتاخانية، كتاب الصلاة، ج:2، ص:202)


فتویٰ نمبر : 10249/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں