بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نذر مانی ہوئی چیز کے بدلے قیمت دینا


سوال

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر میرے بیٹے کی کسی جگہ نوکری لگ جائے تو میرے  گھر میں جو  گائے ہے اس کو میں اللہ کے نام پر صدقہ کروں گا،بعد میں  اس گائے کو پالنا مشکل ہوگیا تو اس نے اس گائے کو بیچ کر اس کی رقم اپنے پاس رکھ دی،جب اس کے بیٹے کی نوکری لگ گئی تو اس نے وہ پیسے گائے کی جگہ دے دے، آیا اس کی طرف سے نذر ادا ہوگئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دے اور وہ شرط پائی جائے تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا۔ نیز نذر مانی ہوئی  چیز کی قیمت ادا کی جائے تو یہ بھی  جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میرے بیٹے کی نوکری لگ جائے تو میں مخصوص  گائے کو اللہ کے نام پر صدقہ کروں گا پھر وہ گائے فروخت کر کے اس کی قیمت مستحقین کو دے دے ،  تو اس کی طرف سے نذر اداہو جائے گی۔

 

(ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى"( كصوم وصلاة وصدقة).(الدرالمختار علی صدرردالمحتار،كتاب الأيمان،ج5،ص516،517)

(نذر ‌أن ‌يتصدق ‌بعشرة ‌دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدق بثمنه.(رد المحتارعلى الدرالمختار، كتاب الأيمان، ج:5، ص:525)


فتویٰ نمبر : 10248/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں