بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نفاس کا خون چالیس دن سے پہلے بند ہوجانےپر مباشرت كا حكم


سوال

کیا نفاس میں جس عورت کو 40 دن سے پہلے خون آنا بند ہو جائےتو شوہر سے مباشرت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد آنے والا خون نفاس کہلاتا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے لیکن کم سے کم مدت متعین نہیں چنانچہ چالیس دن سے پہلے اگر خون بند ہو جائے تو  اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:

1:اگر وہ عورت معتادہ ہو یعنی اس سے پہلے بھی اس کو نفاس آیا ہو اور اس کی نفاس کی عادت معلوم ہو ، تو اگر نفاس کا خون اس کی عادت کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی بند ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ فی الحال اس عورت کا  شوہر سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

2:اور اگر وہ عورت معتادہ ہو اور نفاس کا خون اس کی عادت کی مدت مکمل ہونے کے بعد بند ہوجائے  یا وہ عورت  مبتدأۃ ہو یعنی  اس عورت کو پہلی بار نفاس آیا ہو، تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ غسل  کرنے یا ایک نماز کا وقت گزرنے سےپہلے اس عورت کا اپنے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہے، البتہ غسل کرنے کے بعد یا ایک نماز کا وقت گزرجانے کے بعد اس عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز ہوگا، لیکن مستحب یہ ہے کہ غسل کیے بغیر شوہر سے ازدواجی تعلق قائم نہ کرے۔

 

"وأقل النفاس لا حد له، وأكثره أربعون يوما والزائد عليه استحاضة"۔ (الهداية، كتاب الطهارات، فصل في النفاس، ج:1، ص:68)

"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوباً بل ندباً. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطاً؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمته۔

 (قوله: إذا انقطع حيضها لأكثره) مثله النفاس، وحل الوطء بعد الأكثر ليس بمتوقف على انقطاع الدم صرح به في العناية والنهاية وغيرهما، وإنما ذكره ليبني عليه ما بعده قال ط: ويؤخذ منه جواز الوطء حال نزول دم الاستحاضة اهـ وقدمنا عن البحر أنه يجوز الاستمتاع بما بين السرة والركبة بحائل بغير الوطء ولو تلطخ دماً. وهذا في الحائض، فيدل على جواز وطء المستحاضة وإن تلطخ دماً وسيأتي ما يؤيده فافهم (قوله: وجوباً) منصوب بعامل محذوف أي بلا غسل يجب وجوباً، ومثله قوله: بل ندباً (قوله: بل ندباً) ؛ لأن قراءة {حتى يطهرن} [البقرة: 222] بالتشديد تقتضي حرمة الوطء إلى غاية الاغتسال فحملناها على ما إذا كان أيامها أقل من عشرة دفعاً للتعارض بين القراءتين، فظاهره يورث شبهة، فلهذا لايستحب، نوح عن الكافي۔

(قوله: لدون أقله) أي أقل الحيض وهو ثلاثة أيام (قوله: في آخر الوقت) أي وجوباً، بركوي، والمراد آخر الوقت المستحب دون المكروه كما هو ظاهر سياق كلام الدرر وصدر الشريعة. قال ط: وأهمل الشارح حكم الجماع، ويظهر عدم حله بدليل مسألة الانقطاع على الأقل وهو دون العادة۔

قلت: قد يفرق بين تحقق الحيض وعدمه، وانظر ما نذكره قبيل قوله: والنفاس لأم التوأمين (قوله: وإن ولأقله) اللام بمعنى بعد ط (قوله: لم يحل) أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب، بحر (قوله: وتغتسل وتصلي) أي في آخر الوقت المستحب، وتأخيره إليه واجب هنا أما في صورة الانقطاع لتمام العادة فإنه مستحب، كما في النهاية والبدائع وغيرهما (قوله: احتياطاً) علة للأفعال الثلاثة (قوله: وإن لعادتها) وكذا لو كانت مبتدأةً، درر (قوله: حل في الحال) ؛ لأنه لا اغتسال عليها لعدم الخطاب، فإن أسلمت بعد الانقطاع لاتتغير الأحكام، وتمامه في البحر (قوله: حتى تغتسل) قد علمت أنه يستحب لها تأخيره إلى آخر الوقت المستحب دون المكروه"۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:294)


فتویٰ نمبر : 10263/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں