بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت وفات میں بیوی کا نفقہ


سوال

کچھ دنوں پہلے میری بیٹی کےشوہر کا انتقال ہوا اب میری بیٹی عدت گزار رہی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ میری بیٹی اپنے   شوہر کے مال سے نفقہ لینے کا مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کی زوجیت کا رشتہ  شوہر کی موت سے   ختم ہوجاتا ہے، اس لیے  بیوی شوہر کے حق میں محبوس نہیں رہتی، اس پرعدت گزارنا حکم شرعی کی وجہ سے ہے حق زوج  کی وجہ سے نہیں، لہذا شوہر كی موت كے بعد  شوہر  کے مال سے بیوی کو  نفقہ لینے کا حق نہیں۔

  صورت مسئولہ کے مطابق  سائل کی بیٹی اپنے  شوہرکے  مال سے نفقہ لینے کا مطالبہ نہیں کرسکتی ،تاہم اگر ورثاء اپنی رضامندی سے اس کو شوہر کے مال سے نفقہ دینا چاہیں تو یہ ان کی طر ف سے  ایک احسان اور تبرع ہے، بشرط یہ کہ ان میں کوئی نابالغ نہ ہو۔

 

"ولا نفقة للمتوفى عنها زوجها؛لأن احتباسها ليس لحق الزوج،بل لحق الشرع،فإن التربص عبادة عنها"۔ (الهداية، باب النفقة، ج:2، ص:447)

"لا نفقة لأحد عشر:مرتدة،و مقبلة ابنه،و معتدة موت".(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النفقة، ج:5، ص:285،286)


فتویٰ نمبر : 7057/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں