بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 18/10/2026

دارالافتاء

 

مچھر کے زیادہ مقدار میں خون چوسنے کی وجہ سے وضو کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص با وضو ہو اور اسے مچھر کاٹ لے اور زیادہ مقدار میں اس کا خون چوس لے تو اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر انسان کے بدن سے خون اتنی مقدار میں نکل جائے جس میں بہنے کی صلاحیت موجود ہو، تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

صورت مسئولہ میں  باوضو شخص کو مچھر کے کاٹنے سے جو خون نکلتا ہے، وہ چونکہ بہتے ہوئے خون کی مقدار تک نہیں پہنچتا، اس لیے مچھر کے کاٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، البتہ اگرکوئی  مچھر اتنا بڑا ہو کہ وہ اتنا خون چوسےجوبہنے والا ہو ،تو  ایسے مچھرکے کاٹنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

 

"القراد إذا مص عضو إنسان فامتلأ دما إن كان صغيرا لا ينقض وضوءه كما لو مصت الذباب أو البعوض وإن كان كبيرا ينقض وكذا العلقة إذا مصت عضو إنسان حتى امتلأت من دمه انتقض وضوءه".(الفتاوى الهندية:كتاب الطهارة،الباب الاول،الفصل الخامس،ج:1،ص:11)

"(وإلا)… (لا) ینقض (کبعوض وذباب) کما فی الخانیة لعدم الدم المسفوح"۔(الدر المختار،كتاب الطهارة، ج:1، ص:139)


فتویٰ نمبر : 10242/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں