بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قران خوانوں کو بطوراکرام نقدی دینا


سوال

بعض علاقوں میں لوگ حفاظ کرام کو گھر یا بیٹھک بلوا کر حصول برکت وایصال ثواب کے لیے ختم قران کرواتے ہیں اور گھر والے حفاظ کرام کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں اور کبھی کبھار کچھ نقدی بھی اکراماً ساتھ  دےدیتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ طلبا ئے کرام کے لیے یہ نقدی لینا شرعا کیسا ہے؟

جواب

قرأت قرآن پر  بطور اجرت رقم لینا  جائز نہیں، البتہ قاری کے لیے  بطورہدیہ لینا جائز ہے  لہٰذا اگر کہیں  ختم قرآن پر باقاعدہ اجرت کے طور پر رقم  وصول کی جاتی ہو توبلاشبہ ناجائز ہوگا ۔لیکن جہاں پر اس کو محض اکرام اور ہدیہ کے طور پر دیاجاتاہو نہ کہ اجرت کے طورپر تووہاں اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

"الحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال"۔(ردالمحتار على الدر المختار،کتاب الإجارۃ،  ج:9، ص:77)

 "(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)۔۔۔وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة وليس بأجرة وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا"۔(عمدة القاري،باب مايعطى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب، ج:12، ص:97)


فتویٰ نمبر : 6122/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں