بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں طلبہ کو فجر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر یسین پڑھنے کے لئے اجتماعی دعا تک زبردستی بٹھانا


سوال

کیا مدرسے میں طلبہ کو فجر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر یسین پڑھنے کے لئے اجتماعی دعا تک زبردستی بیٹھانا جائز ہے ؟ بایں طور کہ اگر کوئی طالب علم اجتماعی دعا سے پہلے اٹھے تو اسے دوبارہ بٹھایا جائے ۔

جواب

کسی مستحب امر پر مداومت قبیح نہیں ہے، البتہ فقہاے کرام نے ایسی مداومت کو مکروہ لکھا ہے، جس میں نہ کرنے والوں کو موجب لعن طعن سمجھا جائے اور ان کی تحقیر و تذلیل کی جائے ، لہذا روزانہ نماز فجر کے بعد سورۃ یسین پڑھنا باعث اجر و ثواب اور موجب برکت ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” جو شخص سورۃ یسین کو شروع دن میں پڑھے اس کے تمام دن کی حاجتیں پوری ہو جائیں گئی ۔ اسی طرح اجتماعی طور پر آخر میں دُعا بھی ممنوع نہیں ۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ اس طریقہ سے نہ پڑھنے والوں یا دعا میں شریک نہ ہونے والوں پر لعن طعن نہ ہو۔ یوں مداومت کرنے میں کوئی قباحت نہیں، چونکہ مدرسہ میں طلبہ کا اُٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا اور پڑھنا سب اجتماعی ہوتا ہے، اسی طرح اگر سورۃ لیس پڑھنے میں طلبہ کی جماعت کا اہتمام کیا جائے اور مستقل عبادت کی نیت نہ ہو تو یہ بدعت کے زمرہ میں داخل نہیں ہوتا۔

 

عن عطاء بن ابي رباح قال : بلغني أن رسول الله ﷺ قال : من قرأ سورة يس في صدر النهار،قضيت حوائجه ).سنن الدارمي كتاب فضائل القرآن، باب في فضل پس : ج:2،ص:549)

"عن أنس، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌إن ‌لكل ‌شيء ‌قلبا، ‌وقلب ‌القرآن يس، ومن قرأ يس كتب الله له بقراءتها قراءة القرآن عشر مرات۔(سنن الترمذی ،أبواب فضائل القرآن،‌‌باب ما جاء في فضل يس، ج5، ص162)


فتویٰ نمبر : 6058/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں