بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بل میں اصل لاگت سے زیادہ رقم درج کرنا


سوال

میں دبئی میں ایک مصنع والے کے ساتھ کاؤنٹر منیجر ہوں۔ مجھے مصنع کے مالک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب آپ کسی پر کوئی چیز فروخت کریں، تو کسٹمر آپ سے جتنا بل بنانے کا کہے آپ ویسا ہی بل بنا دیں،چاہے آپ نے کوئی چیز پچاس روپے کی فروخت کی ہو،لیکن جب کسٹمر آپ سے کہے کہ سو روپے کا بل بنا دینا، تو آپ کسٹمر کی ہدایت کے مطابق سو روپے کا ہی بل بنا دیں۔اب پوچھنا یہ ہے، کہ (1) مصنع کے مالک کا یہ کاروبار شرعی لحاظ سے کیسا ہے اور یہ کہ اس سے حاصل ہونے والا منافع حلال ہے یا حرام ؟(2) دوم یہ کہ میرا اس مصنع والے کے ساتھ کام کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اور یہ کہ میری اس مزدوری کی تنخواہ حلال ہے یا حرام ؟

جواب

واضح رہے کہ وہ عمل جو کسی خلا ف شرع کام کے لیے پیش خیمہ بن رہا ہو،شریعت میں ناپسندیدہ ہے۔ جس طرح خود معصیت کا ارتکاب ناجائز ہے،اسی طرح معصیت میں تعاون بھی ناجائز ہے۔ چنانچہ جس طرح جھوٹ اور دھوکہ دہی ناجائز ہے،اسی طرح جھوٹ اور دھوکہ کے لیے راہ ہموار کرنا بھی ناجائز ہے۔  

1۔صورت مسئولہ کے مطابق، اگر فیکٹری کا مالک گاہک کی درخواست پر کم قیمت والی چیز کا بل زیادہ قیمت پر بناتا ہے اور یہ بل دھوکہ دہی یا جھوٹ کو ثابت کرنے یا اسے فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ عمل ناجائز ہے، کیونکہ یہ گناہ میں تعاون کے مترادف ہے۔ اگرچہ فیکٹری والوں کا یہ عمل غلط ہے، لیکن اس سے ان کی کمائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا،کیونکہ اگربنیادی معاہدے میں کوئی خرابی نہ ہو،تو ان کی آمدنی حلال ہوگی۔

2۔ اگر کاؤنٹر منیجر فیکٹری میں معاشی مجبوری کی وجہ سے کام کررہا ہو،اور اس کی فیکٹری میں خلاف ورزی پر قدرت نہ ہو، ساتھ ہی کسی دوسرے جائز کام کی تلاش میں بھی لگا ہو، تو اس کا فیکٹری میں کام کرنا جائز ہے اور اسے اس فیکٹری سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔ تاہم اسے چاہیے کہ جتناجلد ممکن ہو،کوئی اور ذریعۂ آمدنی تلاش کرے تاکہ گناہ پرتعاون کرنے کی وعید سے بچ سکے۔

 

قال الله تعالى: "وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ " قال ابن كثير: يَأْمُرُ تَعَالَى عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْمُعَاوَنَةِ عَلَى فِعْلِ الْخَيْرَاتِ وَهُوَ الْبَرُّ، وَتَرْكِ الْمُنْكِرَاتِ وَهُوَ التَّقْوَى وَيَنْهَاهُمْ عَنِ التَّنَاصُرِ عَلَى الْبَاطِلِ وَالتَّعَاوُنِ عَلَى الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ.(تفسير القرآن العظيم،مكتبة إمدادية مكة المكرمة،ج:2،ص:10)


فتویٰ نمبر : 6064/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں