بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 28/10/2026 |
دارالافتاء
معصیت کرنے کے بعد جرگہ یا کمیٹی والوں کےلیے تعزیری سزا نافذ کرنا
سوال
1۔ حکو مت وقت اور قاضی کے علاوہ کسی فرد یا جرگہ کو تعزیری سزا معصیت کرنے کے بعد نافذ کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ الدر المختار کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو یہ حق نہیں "(ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء.
2۔ آپ نے فتاوی عثمانیہ جلد 9 ص 165 میں نمبر 8 میں تحریر فرمایا ہے کہ " حدود امام کے ساتھ خاص ہیں جب کہ تعزیر ہر صاحب جاہ کےلیے جائز ہے،" اس میں ایک تو یہ عرض کرنا ہے کہ حوالے آپ نے بدائع الصنائع اور رد المحتار کا دیاہے حالانکہ ردالمحتار میں تو یہ عبارت ہے "وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصيةالخ" لیکن بدائع الصنائع میں آپ حضرات نے جس جگہ کا حوالہ دیا ہے اس بارے میں کوئی عبارت نہیں ۔
3۔ دوسرا آپ حضرات نے جلد 9 ص 179،اور ص180 پر دو مسئلوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جلا وطنی اور تعزیر بالمال کسی حد تک جائز ہے، حالانکہ آپ سے سوال جرگہ کے فیصلہ کے با رے میں ہوا ہے جو کہ نہ حکومت وقت ہے اور نہ ان کی طرف سے قاضی، جس سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ کہ ہاں معصیت ہو جانے کے بعد بھی قاضی کے علاوہ لوگ تعزیری سزا جاری کر سکتے ہیں، تو اس بارے میں ذرا وضاحت فر مادیں کہ کیا جرگہ، مختلف یو نین کے بڑے اپنے کسی اصول کی خلا ف ورزی پر تعزیری سزا چاہے مالی ہو یا بدنی ہو یا جلا وطنی کی صورت میں ہو معصیت کے بعد جاری کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ تعزیر کا بنیادی مقصد جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہے اس لیے تعزیرات کو زواجر کہتے ہیں اسی بنیاد کے پیش نظر جن معاصی کے لیے شریعت میں باقاعدہ حد مقرر نہیں کی گئی ہے یا کسی شبہ یا فقدانِ شرائط کی وجہ سےحد نافذ نہ ہوسکے تو ان جرائم کی روک تام کے لیے سزا کو شریعت نے قاضی کی صوابدید پر چھوڑا ہےکہ معصیت کے بعد قاضی جو مناسب سزا ان کو دینا چاہے دے سکتا ہے، اسی طرح ہر اس شخص کو اقامت تعزیر کا حق حاصل ہے جس کو ولایت تادیب حاصل ہو مثلاً زوج، مولیٰ، باپ اور معلم کو تعزیر کا حق ہے اسی طرح كسی قوم یا علاقے کے ذمہ داران کو ان لوگوں کی تعزیر کا حق ہے جو ان کے ذیر آثر ہوں۔ علاوہ ازیں جب کسی بھی مسلمان کے سامنے معصیت کا ارتکاب ہورہا ہوتو اس کو حق تعزیر ہے۔
سوال میں الدر المختار کے حوالہ سے مذکورہ عبارت"(ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء. کا مطلب یہ ہے کہ معصیت کے بعد تعزیری سزا جاری کرنے کا حق یا تو حاکم کو حاصل ہے، کیونکہ اس کو ولایت عامہ حاصل ہے یا پھر زوج اور مولی کو، کیونکہ ان کو ولایت تادیب حاصل ہے، پھر دیگر عبارات سے یہ بات ثابت ہے کہ ولایت تادیب صرف زوج اور مولی تک محدود نہیں، بلکہ والد اور استاد کو بھی ولایت تادیب حاصل ہے۔ جیساکہ مجمع الأنہر میں ہے وللزوج أن يعزر زوجته لترك الزينة) إذا أرادها الزوج وكانت قادرة عليها (وترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه) ولم تكن حائضا، أو نفساء؛ لأن الإجابة واجبة عليها (وترك الصلاة) كما في الدرر وغيره لكن في التنوير لا على ترك الصلاة؛ لأن المنفعة لا تعود إليه بل إليها لكن الأب يعزر الابن لتركها، اسی طرح البحر الرائق میں ہے " ولو أمر غيره بضرب عبده حل للمأمور ضرب عبده بخلاف الحر قال رضي الله عنه فهذا تنصيص على عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمره بخلاف المعلم لأن المأمور بضربه نيابة عن الأب لمصلحته والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة العلم" معلوم ہوا کہ جس کو بھی ولایت تادیب ہو تو اس کو ولایت تعزیر بھی حاصل ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ تعزیر کو تعذیب نہ بنایاجائے۔
(2) فتاوی عثمانیہ جلد (9) صفحہ 165 پر بدائع الصنائع کا جو حوالہ دیاگیا ہےوہ مجموعی اعتبار سے ہے کہ یہ نو مسائل جو ذکر ہیں ان کو بدائع الصنائع اور رد المحتار کے متعلق صفحات سے لیاگیا جن میں سے بعض بدائع الصنائع میں، بعض رد المختار میں اور بعض دونوں میں موجود ہیں۔
(وللزوج أن يعزر زوجته لترك الزينة) إذا أرادها الزوج وكانت قادرة عليها (وترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه) ولم تكن حائضا، أو نفساء؛ لأن الإجابة واجبة عليها (وترك الصلاة) كما في الدرر وغيره لكن في التنوير لا على ترك الصلاة؛ لأن المنفعة لا تعود إليه بل إليها لكن الأب يعزر الابن لتركها.( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الحدود،فصل في التعزير،ج:1، ص: 609، 612)
)ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء. فرع: من عليه التعزير لو قال لرجل أقم علي التعزير ففعله ثم رفع للحاكم فإنه يحتسب به قنية، وأقره المصنف، ومثله في دعوى الخانية، لكن في الفتح ما يجب حقا للعبد لا يقيمه إلا الإمام لتوقفه على الدعوى إلا أن يحكما فيه فليحفظ. ( الدر المختار،كتاب الحدود، باب التعزير،ج: 4، ص: 65(
والتعزیر تأدیب دون الحد ... قلت: ويدل عليه أن الحد لا يليه إلا الإمام. ( رد المحتار،كتاب الحدود، باب التعزير،ج: 4، ص:15، 64)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں