بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کسی ادارہ میں ملازم كا ٹھیکہ دار سے کمیشن کا مطالبہ کرنا


سوال

مجھے ایک سرکاری محکمہ میں مٹیریل سپلائی کا ٹھیکہ ملا۔ میں نے سرکاری معاہدے کے مطابق سپلائی کی اس ادارے میں سرکاری ملازمین کا کمیشن لینا ممنوع ہے اور اس ادارے میں میرا عزیزبھی ملازم ہے۔ اب وہ مجھ سے کمیشن کی شکل میں مطالبہ کر رہا ہے۔ کیا یہ اس کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے عوض حکومت کی طرف سے تنخواہ ملتی ہے اس لیے ان کےلیے جائز نہیں کہ وہ کسی ٹھیکہ دار سے کمیشن کا مطالبہ کریں۔ یہ ان کے حق میں رشوت ہونے کی وجہ سے حلال نہیں۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے کسی سرکاری محکمہ میں مٹیریل سپلائی کاٹھیکہ لیا ہو اور اس نے سرکاری معاہدہ کے مطابق ٹھیکہ پورا کیا ہو تو اس کے بدلے میں ملنے والا پورا عوض اس کا حق ہے۔ ادارہ کے کسی  ملازم کا ٹھیکہ دار سے کمیشن كا مطالبہ كرنا جائز نہیں۔

 

قال اللہ تبارک و تعالى: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾[البقرة: 188]

لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. (رد المحتار،كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب في التعزير بأخذ المال، ج: 4، ص: 61)

الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب۔ (رد المحتار، كتاب القضاء، مطلب: في الكلام على الرشوة والهدية،ج: 8، ص: 35)


فتویٰ نمبر : 3666/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں