بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم ممالک میں کاروبار کرنا


سوال

میں ایک یورپی غیر مسلم ملک میں  کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں، لیکن کسی نے بتایا کہ غیر مسلموں کے ساتھ کاروبار کرنا مکروہ ہے، آیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟

جواب

حضور ﷺ کی بعض احادیث مبارکہ سےکفار کے ساتھ رہن سہن سے ممانعت معلوم ہوتی ہے، لیکن حضرات محدثینؒ کی تشریحات کے مطابق وہ روایات مندرجہ ذیل اشخاص وحالات سے متعلق ہیں :

1-جب کوئی مسلمان غیر اسلامی ملک میں رہائش اختیار کرنے سے کفار کی عادات واخلاق میں ان جیسا رویہ اختیار کرنے لگے ۔

2-دنیوی مفادات کی خاطر اسلامی نظریات چھوڑ دے اور اہل کفر سے مشابہت کو ترجیح دے کر اپنی ظاہری شکل وصورت بھی کفار جیسی بنائے ۔

3-اہل کفر کے ساتھ دوستانہ قلبی تعلقات رکھے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  کسی غیرمسلم ملک میں کاروبار شروع کرنے سےان کے ساتھ دوستانہ تعلقات یاان کی عادات واخلاق اور ان سے مشابہت کا خطرہ ہو تو اس سے اجتناب ضروری ہے،البتہ یہ خطرہ نہ ہواور شرعی اصول کا لحاظ رکھا جائے توغیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے وہاں کے باشندوں کے ساتھ تجارتی معاملات کی گنجائش ہے، لیکن موجودہ دور میں عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہوتے ہیں عموماً وہ اسلامی اقدار کی حفاظت صحیح طور پر نہیں کر پاتے، لہذا ایسی صورت حال میں بلاضرورت غیر مسلم ممالک میں رہائش اور کاروبار شروع کرنے سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

                 

"عن عائشة، قالت: «‌اشترى ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم ‌من ‌يهودي طعاما ورهنه درعا له من حديد»(الصحيح لمسلم، كتاب البيوع،باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر،ج:2، ص:31)

"أجمع ‌المسلمون ‌على ‌جواز ‌معاملة أهل الذمة وغيرهم من الكفار إذا لم يتحقق تحريم ما معه لكن لا يجوز للمسلم أن يبيع أهل الحرب سلاحا وآلة حرب ولا يستعينون به في إقامة دينهم."(شرح النووى على الصحیح لمسلم، باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر،ج:7، ص:4355)

"لا بأس بأن يكون بين المسلم و الذمى معاملة،إذا كان مما لا بد منه.( الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:402)

"عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ»۔أي: اجتمع معه في دار أو بلد، والأحسن أن يقال: معناه اجتمع معه، أي: اشترك في الرسوم والعادة والهيئة والزي، وأما قوله: (وسكن معه) علة له، أي: سكناه معه صار علة لتوافقه في الهيئة والزي والخصال (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن "فتح الودود": فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلًاله لتأثيرالجواروالصحبة، ويحتمل أنه تغليظ."(سنن ابي داؤدمع بذل المجهود،كتاب الجهاد ،باب في الإقامة بأرض الشرك،ج:12، ص:425)


فتویٰ نمبر : 6046/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں