بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

غسل میں ناک کی ہڈی تک پانی پہنچانا


سوال

اگرغسل کے دوران ناک کی ہڈی تک پانی نہ پہنچے تو کیا غسل مکمل سمجھا جائے گا؟ اور پانی کہاں تک پہنچانا ضروری ہے؟

جواب

غسل کا بنیادی رکن یہ ہے کہ جہاں تک بغیر حرج کے پانی پہنچانا ممکن ہو، وہاں تک پانی پہنچایا جائے، لہذا فقہائے کرام نے اسی قاعدے کومد نظر رکھتے ہوئےتین فرض قرار دیےہیں:(1)جسم کے ظاہری اعضاپر پانی بہانا(2)کلی کرنا یعنی منہ میں پانی ڈالنا(3)ناک میں پانی ڈالنا۔

صورت مسئولہ کے مطابق غسل میں ناک میں پانی ڈالنے سے  فرض ادا ہوجائے گا چاہے ہڈی تک پانی پہنچے یا نہ پہنچے، البتہ غیر روزہ دار کے لیے ناک کی نرم حصے تک پانی پہنچانا سنت ہے، لہذاجہاں تک سہولت سے پانی پہنچ سکے وہاں تک پہنچانا بہتر ہے۔

 

(و‌‌فرض الغسل) أراد به ما يعم العملي كما مر، وبالغسل المفروض كما في الجوهرة، وظاهره عدم شرطية غسل فمه وأنفه في المسنون كذا البحر، يعني عدم فرضيتها فيه وإلا فهما شرطان في تحصيل السنة (غسل) كل (فمه) ويكفي الشرب عبا؛لأن المج ليس بشرط في الأصح (وأنفه) حتى ما تحت الدرن (و) باقي (بدنه) لكن في المغرب وغيره: البدن من المنكب إلى الألية، وحينئذ فالرأس والعنق واليد والرجل خارجة لغة داخلة تبعا شرعا (لا دلكه) لأنه متمم، فيكون مستحبا لا شرطا۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة، فرض الغسل، ج:1، ص:153)

(وسننه) كسنن الوضوء سوى الترتيب. وآدابه كآدابه سوى استقبال القبلة۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:156)

‌وهما ‌سنتان ‌مؤكدتان ‌مشتملتان ‌على ‌سنن ‌خمس: ‌الترتيب، ‌والتثليث، ‌وتجديد ‌الماء، ‌وفعلهما ‌باليمنى (‌والمبالغة ‌فيهما) ‌بالغرغرة، ‌ومجاوزة ‌المارن (‌لغير ‌الصائم) لاحتمال الفساد۔( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة،سنن الوضوء، ج:1، ص:116)


فتویٰ نمبر : 10240/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں