بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقرر شدہ مہر میں کمی کرنا


سوال

عورت کے لیے عقد نکاح کے وقت سات تولہ سونا مقرر ہوا ،تین  تولہ سونا  معجل ادا کیا،اب بیوی نے اپنے مہر میں کمی کر کے 5 تولہ سونا کر دیا ؟ تو کیا شوہر اب صرف دو تولہ سونا ادا کرے گا یا بقیہ  چار تولہ سونا مکمل ادا کرے گا؟

 

جواب

واضح رہے کہ عقد نکاح کے وقت طے شدہ مہر دینا شوہر کے ذمے لازم ہے ،البتہ اگر شوہر اپنی خوشی سے اس مہر  میں زیادتی کرے یا  بیوی اپنی خوشی سے اس مہر میں کمی کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عقد نکاح کے وقت سات تولہ سونا مہر مقرر ہوا تھا،جس میں سے  تین تولہ سونا شوہر نے معجل ادا کیا ، تو اگر  بیوی بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی و رضامندی سے اس مہر میں کمی کرکے سات تولہ سونا سے پانچ تولہ سونا کردے ،تو اس صورت میں مہرپانچ تولہ ہو جائے گا،اور شوہر پر  اب صرف دو تولہ سونا کی ادا ئیگی لازم ہو گی۔

 

قال الله تعالى:وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَاِنْ  طِبْنَ  لَكُمْ  عَنْ  شَیْءٍ  مِّنْهُ  نَفْسًا  فَكُلُوْهُ  هَنِیْٓــٴًـا  مَّرِیْٓــٴًـا. (النساء الأية:4)

‌وإن ‌حطت ‌عن ‌مهرها ‌صح ‌الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق.(الفتاوی الھندیة،كتاب النكاح،ج:1ص:313)


فتویٰ نمبر : 7054/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں