بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ایک بیٹے،دو بھا ئیوں اور ایک بھتیجے کے درمیان تقسیم میراث


سوال

شیوہ فوت ہو چکی ہے ، اس کے ورثا میں   ایک بیٹا (اورنگزیب )،دو بھا ئی ( محمد ریحان ، بادشاہ) اور ایک بھتیجا(جاوید) زندہ موجود ہیں۔شرعاًاس کی  میراث کی تقسیم   کس طرح ہوگی ؟

جواب

   میــــــ (شیوہ)ــــ(1)ـــــــــــــت

                  بیٹا   

  اورنگزیب     

      1

بشرط صدق وثبوت اگر  مرحومہ کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور  کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد  ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا  کل ترکہ  اس کے بیٹے (اورنگزیب ) کو ملے گا ،جب کہ مرحومہ کے  بھا ئیوں(محمد ریحان اور بادشاہ)   اور بھتیجے (جاوید )کا وراثت میں کوئی   حق  نہیں بنتا۔

فيبدأ بذي الفرض ‌ثم ‌بالعصبة النسبية ‌ثم ‌بالعصبة السببية وهو مولى العتاقة، ثم عصبة مولى العتاقة ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام.(الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض ،الباب ا لاول،ج:6،ص:440)

الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعني أولم بالميراث جزءالميت ۔ ۔ ۔ ثم أصله ۔ ۔ ۔ ثم جزءأبيه أي الإخوة ثم بنوهم وإن سفلواء.(السراجي،باب العصبات،ص:36)

 


فتویٰ نمبر : 3656/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں