بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مملوکہ باغ کے پھلوں کوذخیرہ کرنا


سوال

ہمارے ہاں انار وافر مقدار میں پائے جاتے  ہیں جن کو ہم اس  کے موسم میں بیچتے بھی  ہیں اور ان میں سے ایک مقدار ہم زمین میں گڑھا کھود کر محفوظ بھی کرتے ہیں ،جن  کو ہم سردیوں کے موسم  میں ضرورت کے وقت استعمال  کرتے ہے اور سردیوں کے موسم میں  ان کو فروخت   بھی کرتے ہیں ،کیا یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص خوراک کی کسی ایسی چیز کو ذخیرہ کرے جس سے عام لوگوں کے حقوق متعلق ہوں اور ان کو ذخیرہ کرنے سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی  ہو  تو یہ عمل جائز نہیں ،لیکن  اگر وہ چیز اس کی اپنی مملوکہ زمین کی پیداوار ہو تو اس کے ساتھ عام لوگوں  کے حقوق متعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل ناجائز نہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص  اپنی زمین سے پیدا ہونے والے انارکو  ذخیرہ کرےتاکہ سردیوں کے موسم میں بوقت ضرورت استعمال کرے یا   سردیوں  کے موسم میں ان کو فروخت کرے تو یہ احتکار کے زمرے میں نہیں آتا  اس لیے  یہ عمل جائز ہے ۔

 

(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"...(‌ولا ‌يكون ‌محتكرا ‌بحبس ‌غلة ‌أرضه)لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة، ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذا له أن لا يبيع هداية قال والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، فصك في البيع، ج:9، ص:573،572)

قال: "‌ومن ‌احتكر ‌غلة ‌ضيعته أو ما جلبه من بلد آخر فليس بمحتكر" أما الأول فلأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة؛ ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذلك له أن لا يبيع.(الهداية، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:4، ص:377)


فتویٰ نمبر : 3663/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں