بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ میں چوتھی تکبیر بھول جان


سوال

اگر امام صاحب  نماز جنازہ میں چوتھی تکبیر کہنا بھول  جائے اور تیسری ‏تکبیر کے بعد دعا وغیرہ پڑھ کر سلام پھیردے، اور تدفین بھی ہو جائے ،کیا یہ جنازہ ادا ہو جاتا ہے  یا دوبارہ دہرانے کی ضرورت ہے؟ ‏اگر دہرانا ضروری ہے تو تد فین کے بعد دہرانے کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں فرض ہیں اور ہر تکبیر  ایک رکعت کے قائم مقام ‏ مستقل رکن ہے، لہٰذا اگر کوئی تکبیررہ جائے تو نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوتی اوراس کا دہرانا لازم ہوتا ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرامام نمازجنازہ میں چوتھی تکبیرکہے بغیرتیسری تکبیر پرہی دعا وغیرہ پڑھ کرسلام پھیرلےتونمازجنازہ ادا نہ ہوگی، اوراس کا اعادہ لازم ہوگا، تاہم دفن کرنے کے بعد قبر پر ‏جاکر میت کو نکالے بغیر اس وقت تک نمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے جب تک میت کے جسم کے گلنے سڑنے اور پھٹنے ‏کا غالب گمان نہ ہوجائے، جس کی اکثر مدت فقہاء کرام نے تین دن بیان کی ہے،البتہ علاقہ اور موسم کے لحاظ سے یہ تین دن سے کم زیادہ بھی ہوسکتی ہے، جو تجربہ کار حضرات سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس مدت کے بعد قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔

 

‌ولو ‌دفن ‌بعد ‌الغسل ‌قبل ‌الصلاة ‌عليه صلي عليه في القبر ما لم يعلم أنه تفرق وفي الأمالي عن أبي يوسف أنه قال: يصلى عليه إلى ثلاثة أيام هكذا ذكر ابن رستم عن محمد، أما قبل مضي ثلاثة أيام فلما روينا أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر تلك المرأة فلما جازت الصلاة على القبر بعد ما صلي على الميت مرة فلأن تجوز في موضع لم يصل عليه أصلا أولى.

وأما بعد الثلاثة أيام لا يصلى؛ لأن الصلاة مشروعة على البدن وبعد مضي الثلاث ينشق ويتفرق فلا يبقى البدن وهذا؛ لأن في المدة القليلة لا يتفرق وفي الكثيرة يتفرق، فجعلت الثلاث في حد الكثرة؛ لأنها جمع والجمع ثبت بالكثرة؛ ولأن العبرة للمعتاد والغالب في العادة أن بمضي الثلاث يتفسخ ويتفرق أعضاؤه، والصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم؛ لأنه يختلف باختلاف الأوقات في الحر والبرد، وباختلاف حال الميت في السمن والهزال، وباختلاف الأمكنة فيحكم فيه غالب الرأي وأكبر الظن، فإن قيل: روي عن النبي صلى الله عليه وسلم "أنه صلى على شهداء أحد بعد ثمان سنين" فالجواب أن معناه - والله أعلم - أنه دعا لهم قال الله تعالى:﴿وصل عليهم إن صلاتك سكن لهم﴾ [التوبة: 103] ، والصلاة في الآية بمعنى الدعاء، وقيل: إنهم لم تتفرق أعضاؤهم فإن معاوية لما أراد أن يحولهم وجدهم، كما دفنوا فتركهم.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل ما تصح به صلاة الجنازة، ج:ص:315)

" (‌وهي ‌أربع ‌تكبيرات) ‌كل ‌تكبيرة ‌قائمة ‌مقام ‌ركعة"۔(الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب صلاةالجنازة، ج:1، ص:120)


فتویٰ نمبر : 10239/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں