بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

سودا ہوجانے کے بعد مارکیٹ ریٹ کم ہوجانے کی وجہ سے دکاندار کو کم پیسے دینا


سوال

میں نے ایک دکان سے سولر 522100 روپے میں خریدا اور رقم کی ادائیگی کے لیے اسے چیک دیا جو بینک بند ہونے کی وجہ سے  کیش نہ ہوسکا، دکان دار نے سولر پیک کر کے ایک طرف رکھ لیا، اور کہا کہ آپ چیک  کیش کروا کر اپنا سولر اٹھالیں۔ اس دوران میں نے مصروفیت کی وجہ سے چیک  کیش  نہیں کرایا اور اس پر دس دن گزر گئے، دس دنوں کے بعد میں نے اپنے الیکٹریشن کے ذریعے نقد رقم بھیجی تو اس وقت سولر کی قیمت سترہ ہزار کم ہوچکی تھی،چنانچہ بحث و مباحثہ کے بعد الیکٹریشن نے دکاندار کو اتنی رقم کم ادا کی۔ کیا ہمارا یہ فعل درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے وقت باہمی رضامندی سے جو قیمت طے ہوجائے اور خرید و فروخت کا معاملہ حتمی ہوجائے، تو خریدار  وہی طے شدہ قیمت دینے کا پابند ہوتا ہے، بعد میں مارکیٹ ریٹ میں کمی یا زیادتی کا اعتبار نہیں ہوتا۔  

صورت  مسؤلہ کے مطابق  اگر دکان دار نے معاملہ طے پاتے وقت سولرمتعین کر دیے تھے، تو بیع  تام شمار ہو گی، اس لیے سائل پر وہ پوری قیمت لازم ہے جومعاملہ کرتے وقت قیمت طے ہوئی تھی ،مارکیٹ ریٹ کم ہونے کی وجہ سے دکاندار کو طے شدہ قیمت سے کم پیسے دینا جائز نہیں ہے۔البتہ اگر دکان داراپنی مرضی سے  طے شدہ رقم  سے کم  لینے پر راضی ہوجائے، تو شرعا یہ جائزہے۔

 

"الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي، سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها"۔(مجلة الأحكام العدلية، الكتاب الأول في البيوع، المقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، ج:1، ص:33، المادة:153)


فتویٰ نمبر : 3658/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں