بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بالغ مردوعورت پرایک ساتھ نمازجنازہ پڑھنا


سوال

کیادوبالغ افرادیعنی ایک مرداورایک عورت کاجنازہ اکھٹےپڑھاجاسکتاہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عطافرمائیں۔

جواب

میت پرنمازجنازہ پڑھنااس کاحق ہے۔نمازجنازہ پڑھتےوقت اموات اگرایک سےزیادہ ہوں توبہتریہی ہےکہ ہرمیت پرعلیحدہ جنازہ پڑھا جائے،تاہم اگراکھٹےسب پرجنازہ پڑھاجائےتویہ بھی جائزہے،البتہ اس صورت میں میتوں کورکھنےمیں ترتیب کالحاظ رکھنا ہوگا،چنانچہ پہلےمردپھربچہ پھرخنثی مشکل(خواجہ سرا)پھربالغ عورت پھرمراہقہ(قریب بلوغ)عورت کورکھاجائے۔

صورت مسؤلہ میں دوبالغ افرادیعنی ایک مرداورایک عورت کااکھٹےنمازجنازہ پڑھاجاسکتاہے،البتہ میتوں کورکھتےوقت مردکوامام کی جانب پہلےرکھاجائےاورپھرعورت کواس کےبعدرکھاجائے۔

 

عن عمارمولى الحارث بن نوفل،"أنه شهدجنازةأم كلثوم وابنها،فجعل الغلام ممايلي الإمام،فأنكرت ذلك وفي القوم ابن عباس،وأبوسعيدالخدري،وأبوقتادة، وأبوهريرة فقالوا:هذه السنة"(سنن ابي داؤد،كتاب الجنائز،باب إذاحضرجنائزرجال ونساءمن يقدم،2/101،رقم الحديث3193)

(وإذااجتمعت الجنائزفإفرادالصلاة)على كل واحدة(أولى)من الجمع وتقديم الأفضل أفضل(وإن جمع)جاز...

فيقرب منه الأفضل فالأفضل الرجل ممايليه؛فالصبي فالخنثى فالبالغةفالمراهقة؛والصبي الحريقدم على العبد،والعبد على المرأة.(درالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الصلوة،باب صلوةالجنائز،مطلب هل يسقط فرض الكفاية بفعل الصبي،3/188)


فتویٰ نمبر : 10251/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں