بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مخنث کا زبردستی رقم وصول کرنا
سوال
ٍہمارے یہاں(بنگلہ دیش میں)شادی، نو مولود کی ولادت، ٹرین کے سفر وغیرہ کے موقع پر مخنث لوگ زبردستی رقم وصول کرتے ہیں اگر نہ دی جائے تو بہت بے حیائی والی حرکتیں کرتے ہیں، گویا ایک قسم مجبور کرتے ہیں۔ اب جاننا یہ ہے کہ ان کا اس طرح زبردستی رقم وصول کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز عزت بچانے کےلئے کیا ان کو رقم دینا ضروری ہے؟ اگر کوئی اپنی عزت بچانے کی خاطر مجبور ہوکر کسی کو کچھ دے تو کیا اس کی گنجائش ہے؟ ۔
جواب
معاشرے میں بعض لوگ سوال کرتے ہیں اور یہی مشغلہ اپنے لیے پیشہ بنارکھا ہے، اور اگر ان کو کچھ نہ دیا جائے تو زبردستی وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بعض باوقار لوگ ان کو اپنی عزت بچانے کی خاطر کچھ دے دیتے ہیں ،یوں اس قسم کے لوگوں کو کچھ دینے کی گنجائش ہے البتہ اس طبقہ کو سمجھا کر اس کام سے روکنا چاہیے کیوں کہ ان کے لیے سوال کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں مخنث افراد کا لوگوں کے مال کواس طرح زبردستی سے لینا کہ اگر نہ دے تو اس کو دینے پر مجبور کریں ، یہ ناحق کمائی کے زمرے میں آتا ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کوکچھ رقم دے دے، تو دینے والا گناہ گار نہیں ہوگا۔
قال اللہ تعالی:(وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ )(البقرہ:188)
واما حکمہ، فالاثم والمغرم عند العلم، وان کان العلم بان ظن ان الماخوذ مالہ، او اشتری عینا ثم ظھر استحقاقہ فالمغرم۔ ویجب علی الغاصب رد عینہ علی المالک، وان عجز عن رد عینہ بھلاکہ فی یدہ بفعلہ اوبغیر فعلہ، فعلیہ مثلہ ان کان مثلیا، کالمکیل والموزون، ۔۔۔۔۔وان غصب مالا مثل لہ، فعلیہ قیمۃ یوم الغصب بالاجماع۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الغصب، الباب الاول فی تفسیر الغصب،وحکمہ، ج:5،ص:139)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں