بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا فقراء پر رقم تقسیم کرنے کی بجائے مستحق زکوٰۃ سے اپناقرض وصول کرنا


سوال

میں نے ایک شخص کو 2 لاکھ روپے زکوٰۃ کی مد میں دیئے اور یہ کہا کہ یہ رقم تم فقراء کے مابین تقسیم کرنا، اس شخص کو کسی مستحق زکوٰۃ نے 50 ہزار روپے قرض کے دینے تھے، تو جس کو میں نے وکیل بنایا تھا زکوٰۃ کی ادائیگی کا، اس نے اپنے مقروض کو کہا زکوٰۃکی مد میں میرے پاس کچھ رقم ہے وہ میں تمہیں دینے کی بجائے  اس سے میں  اپنے 50ہزار روپے لے رہا ہوں   ،اور مستحق زکوٰۃ اس پر راضی ہوا اور اس نے 2 لاکھ روپے میں سے 50 ہزار روپے اپنے پاس رکھ لیے، اور باقی رقم فقراء میں تقسیم کی تو کیا ایسا کرنا شرعا درست تھا؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر کسی شخص نے دوسرے کو اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل  بنایا  تو وکیل  موکل کی طرف سے زکوٰۃ کی رقم صحیح مصرف میں خرچ کرے گا،اگر موکل نے مصرف کی تحدید کی ہو تو  وکیل اُسی مصرف میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے  کا پابند ہو گا،اگر موکل نے وکیل کو زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا مکمل اختیار دیا ہوتو وکیل جس مستحق زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ دینا چاہے  دے سکتا ہے۔  وکیل کی ذمہ داری   بھی پوری ہو جائے گی اور زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر سائل نے دو لاکھ روپے وکیل کو دیئے تاکہ وہ یہ رقم  فقرا کو دے ،تو گویا اس کی طرف سے وکیل  کو مکمل اجازت تھی کہ وہ جس مستحق زکوٰۃ کو یہ رقم دینا چاہے دے سکتا ہے،پھر وکیل نے  اپنے مستحق زکوٰۃ  مقروض کی اجازت سے  50 ہزار روپے  بطور قرض اپنے لئےوصول کر لیے   تو ایسا کرنا جائز نہیں،اس لیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں فقیر کو مال کا مالک بنانا شرط ہے جب کہ یہاں مالک نہیں بنایا گیا،لہذا اس کی جائز صورت یہ ہے کہ 50 ہزار روپے مقروض کو دیئے جائیں اور اس کے بعد اس  سے یہ رقم قرض کی وصولی میں لی جائے یا مقروض کسی دوسرے آدمی کو اپنا وکیل بنائے جو اس کی طرف سے اتنی رقم پر قبضہ کر کے وکیل کو قرض کی ادائیگی میں واپس کرے  اس طرح بھی زکوٰۃ ادا  ہو جائے گی۔ 

 

قال الله تعالى:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ.(التوبة،60)

‌إذا ‌وكل ‌في ‌أداء ‌الزكاة ‌أجزأته ‌النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية.(الفتاوی الھندیة،كتاب الزكاة،ج:١ص:171)

ولو ‌قضى ‌دين ‌حي ‌فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،ج:2ص:457)

أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، ‌وعن ‌دين ‌سيقبض لا یجوز وحیلة الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکاته ثم یأخذھا عن دینه ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه قوله(حیلة الجواز)أی فیما اذا کان له دین علی معسر وأراد أن یجعله زکوٰۃ عن عین عندہ أو دین له علی آخر سیقبض۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،ج:2ص:270)


فتویٰ نمبر : 10237/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں