بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سود سے حاصل کیےگئے منافع لکھنا


سوال

ایک شخص تعلیمی ادارہ میں استاد ہے اور اس ادارے کا فنڈ یعنی رقم  بینک میں جمع ہے جس پر جون اور دسمبر کے مہینے میں منافع یعنی سود لگتا ہےتو اس شخص کے ذمے فنڈ کا ریکارڈ ہے جس میں آمد وخرچ لکھا جاتا ہے اب اس شخص کےلیے جون ودسمبر کے مہینے میں آمد کی مد میں یہ منافع لکھنا پڑتا ہے تو کیا یہ شخص اس منافع کے لکھنے پر گناہگار ہوگا یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ سودی معاملات میں جس طرح سود دینے والے اور سود لینے والے کے بارے میں وعید آئی ہے، اسی طرح سود لکھنے والے اور اس کی معاونت  کرنے والے کے بارے میں بھی وعید آئی ہے، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی ادارہ میں سودی منافع  لکھنے پر مامور شخص اس کی وجہ سے گناہگا ر ہوگا، تاہم اگر اس کا اصل کام دیگر جائز حسابات درج کرنا ہو اور کبھی ضمنا ً سودی منافع کو درج کرنا پڑے تو ایسی صورت میں اس کی تنخواہ حلال ہوگی، لیکن اس گناہ سے توبہ کرتا  رہے۔

 

عن جابر رضي الله عنه قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ‌وموكله ‌وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) » رواه مسلم. قوله (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) ، أي: النبي صلى الله عليه وسلم (هم سواء) ، أي: في أصل الإثم، وإن كانوا مختلفين في قدره۔ ( مرقاۃ المفاتیح، باب الربا، الفصل الأول، ج: 5، ص:1916)


فتویٰ نمبر : 6041/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں