بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیع الوفاء کا حکم


سوال

کیا ”بیع الوفاء“ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی پر کوئی چیز اس شرط کے ساتھ فروخت کرے کہ بعد میں مشتری بائع کو وہی چیز واپس فروخت کرنے کا پابند ہوگا تو فقہی اصطلاح میں اس عقد کو بیع الوفا کہا جاتا ہے، اس کو بیع الوفا اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بائع اور مشتری کے درمیان وفاداری کا معاہدہ ہوتا ہے۔

بیع الوفا میں اگر وفا کی شرط اصل عقد میں لگائی جائے، تو مشتری خریدی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنتا، بلکہ وہ چیز مشتری کے پاس رہن کے طور پر ہوتی ہے اور مشتری کی طرف سے دی گئی رقم بائع کے ذمہ قرض شمار ہوتی ہے، اس صورت میں مشتری کے لیے خریدی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہوتا، کیونکہ یہ خریداری کی بجائے قرض کے بدلے رہن سے فائدہ اٹھانا ہے جو کہ سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

البتہ اگر وفا کی شرط اصل عقد میں نہ لگائی گئی ہو بلکہ عقد سے الگ ایک وعدے کے طور پر یہ شرط ذکر کی گئی ہو تو اس صورت میں یہ عقد جائز ہوگا، اور مشتری اس چیز کا مالک بن جائے گا۔

 

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني ولذا يجري حكم الرهن في البيع بالوفاء.

يفهم من هذه المادة أنه عند حصول العقد لا ينظر للألفاظ التي يستعملها العاقدان حين العقد بل إنما ينظر إلى مقاصدهم الحقيقية من الكلام الذي يلفظ به حين العقد؛ لأن المقصود الحقيقي هو المعنى وليس اللفظ ولا الصيغة….مثال ذلك: بيع الوفاء، فاستعمال كلمة البيع فيه التي تتضمن تمليك المبيع للمشتري أثناء العقد لا يفيد التمليك؛ لأنه لم يكن مقصودا من الفريقين بل المقصود به إنما هو تأمين دين المشتري المترتب في ذمة البائع، وإبقاء المبيع تحت يد المشتري لحين وفاء الدين، ولذلك لم يخرج العقد عن كونه عقد رهن فيجري به حكم الرهن ولا يجري حكم البيع. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادۃ:3، ج:1، ص:21)

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام ‌فكره ‌للمرتهن ‌سكنى ‌المرهونة بإذن الراهن. (الدر المختار شرح تنویر الأبصار، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:166)

قلت: ومفاده أنهما لو تواضعا على الوفاء قبل العقد ثم عقدا خاليا عن شرط الوفاء فالعقد جائز ولا عبرة للمواضعة وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر: صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين. ووجه تسميته بيع الوفاء ‌أن ‌فيه ‌عهدا ‌بالوفاء ‌من ‌المشتري بأن يرد المبيع على البائع حين رد الثمن. (رد المحتار على الدر المختار، مطلب المسائل في المقاصة، ج:5، ص: /276275)


فتویٰ نمبر : 3984/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں