بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رمضان کے مہینوں میں روزہ توڑنے پر کفارہ کا حکم


سوال

ایک شخص نے رمضان کے کئی روزے توڑے ہیں اور تقریبا تین سال سے وہ روزہ رکھتا ہے اور درمیان میں توڑ دیتا ہے  اس طرح کل سولہ روزے توڑ چکا ہے ،اب اس نے توبہ کی ہے اور کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے ایک رمضان  میں یا مختلف رمضان کے مہینوں میں کئی روزے توڑے ہوں اور ابھی تک کسی ایک روزے  کا کفارہ بھی ادا نہ کیا ہو تو ان  تمام روزوں کے بدلے ایک ہی کفارہ  ادا کرنا کافی ہو گا،البتہ ان کفارہ کے روزوں کے علاوہ فوت شدہ روزوں کی قضاء  لانابھی لازم ہے۔

صورت  مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے تین سال  کے رمضان کے  مہینوں کے سولہ روزے بغیر کسی عذر کے قصدا توڑےہوں تو ان تمام  روزوں کے بدلے ایک ہی کفارہ ادا کرنا کافی ہے۔کفارہ یہ ہے کہ مسلسل دو ماہ  روزے رکھے،تاہم اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کا دو وقت کا کھانا کھلائےیا کسی ایک مسکین کو ساٹھ دن دو وقت کا کھانا بھی کھلا سکتا ہے،اس طرح ان روزوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا،نیزجو سولہ روزے توڑے ہیں ان کے بدلے سولہ روزے قضا  کے بھی  رکھے جائیں گے۔

 

ولو ‌تكرر ‌فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد وعليه الاعتماد.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصوم،ج:2ص:413)

‌كفارة ‌الفطر، وكفارة الظهار واحدة، وهي عتق رقبة مؤمنة أو كافرة فإن لم يقدر على العتق فعليه صيام شهرين متتابعين، وإن لم يستطع فعليه إطعام ستين مسكينا كل مسكين صاعا من تمر أو شعير أو نصف صاع من حنطة.(الفتاوی الھندیة،كتاب الصوم،ج:1ص:215)


فتویٰ نمبر : 10232/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں